ویانا: جرمنی کے الیگزینڈر زیوریف نے ویانا اوپن میں نیدرلینڈز کے ٹیلون گریکسپور کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے کے ساتھ کیریئر میں پہلی بار عالمی نمبر ایک بننے کا اعزاز یقینی بنالیا ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وہ پیر کو نئی عالمی درجہ بندی جاری ہونے پر باضابطہ طور پر پہلی پوزیشن سنبھالیں گے۔
29 سالہ زیوریف نے جمعرات کو کامیابی کے ذریعے سرفہرست آنے کے لیے درکار پوائنٹس حاصل کیے۔
یانک سنر کے انجری کے باعث سیزن قبل از وقت ختم کرنے کے بعد زیوریف کا سال کا اختتام عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے کرنا پہلے ہی یقینی ہوگیا تھا۔ ویانا کی فتح سے وہ اس سے پہلے ہی پہلی پوزیشن حاصل کرلیں گے۔
زیوریف 1973 میں عالمی درجہ بندی متعارف ہونے کے بعد پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے 30ویں مرد کھلاڑی بنیں گے۔ پہلی بار یہ مقام حاصل کرنے کے وقت صرف جان نیوکومب ان سے زیادہ عمر کے تھے، جو 1974 میں 30 برس کی عمر میں عالمی نمبر ایک بنے تھے۔
زیوریف نے اس کامیابی کو ایک خاص احساس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے سے مختلف ہے اور اپنے نام کے ساتھ نمبر ایک درج ہونے کا احساس غیر معمولی ہے۔
انجری سے واپسی اور گرینڈ سلیم کامیابیاں
ہیمبرگ میں پیدا ہونے والے زیوریف کے والدین سابق سوویت یونین میں اعلیٰ سطح پر ٹینس کھیل چکے تھے۔ زیوریف کو کم عمری ہی سے مستقبل کا نمایاں کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔
وہ 2020 کے یو ایس اوپن میں پہلی بار کسی گرینڈ سلیم کے فائنل تک پہنچے، لیکن ابتدائی دو سیٹس جیتنے کے باوجود ڈومینک تھیم سے پانچ سیٹس میں شکست کھا گئے۔
2021 کے ٹوکیو اولمپکس میں انہوں نے سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ اور فائنل میں کیرن خاچانوف کو شکست دے کر سنگلز کا طلائی تمغہ جیتا۔
2022 کے فرنچ اوپن میں رافیل نڈال کے خلاف سیمی فائنل کے دوران ان کے ٹخنے کے رباط پھٹ گئے، جس کے بعد انہیں سرجری کرانا پڑی۔
زیوریف جنوری 2023 میں مقابلوں میں واپس آئے اور اسی سال ہیمبرگ میں کیریئر کا 20واں ٹائٹل جیتا۔ 2024 میں وہ فرنچ اوپن کے فائنل تک پہنچے اور عالمی درجہ بندی میں دوبارہ دوسری پوزیشن حاصل کی۔
2025 کے آسٹریلین اوپن میں انہیں تیسرے گرینڈ سلیم فائنل میں بھی شکست ہوئی، جہاں سنر نے انہیں مسلسل تین سیٹس میں ہرایا۔ تاہم رواں سیزن میں انہوں نے اپنے پہلے دو گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیتے، جن میں ستمبر کا یو ایس اوپن بھی شامل ہے۔
ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے والے زیوریف نے کہا کہ سابقہ ناکامیوں کے باوجود انہیں یقین رہا کہ وہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت سکتے ہیں۔
الزامات اور قانونی کارروائی
زیوریف کو اپنی دو سابق ساتھیوں، اولگا شریپووا اور برینڈا پاتیا، کی جانب سے گھریلو تشدد کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
شریپووا کے الزامات پر اے ٹی پی کی تحقیقات میں تادیبی کارروائی کے لیے کافی شواہد نہیں ملے۔
ان کی بیٹی کی والدہ پاتیا سے متعلق مقدمے میں ایک جرمن عدالت نے 2023 میں جرمانے کا حکم جاری کیا تھا۔ زیوریف نے اسے چیلنج کیا، جبکہ جون 2024 میں تصفیے کے بعد کارروائی ختم ہوگئی۔





