کراچی: پاکستانی اداکار فیصل قریشی نے پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں پر بھارت کی جانب سے عائد پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی ناظرین میں پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت نے پاکستانی معاشرے کے بارے میں قائم تصورات کو چیلنج کیا تھا۔
انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارم پاکستانی سنیما کی جانب سے شیئر کیے گئے بیان میں فیصل قریشی نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے ملک کی ایک ایسی تصویر پیش کر رہے تھے جو بھارتی ناظرین کو اپنے میڈیا اور سرکاری بیانیے کے ذریعے دکھائی جانے والی تصویر سے مختلف تھی۔
اداکار کے مطابق، پاکستانی معاشرے کی اس مختلف عکاسی نے بھارت کی جانب سے پاکستانی ٹیلی ویژن مواد تک رسائی محدود کرنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔
فیصل قریشی نے دعویٰ کیا کہ پابندیوں کے باوجود بھارتی ناظرین میں پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت برقرار رہی اور بعض بھارتی شہریوں نے ان پروگراموں کو دیکھنے کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کا استعمال بھی کیا۔
ان کے بیانات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ ثقافتی تعلقات، خصوصاً سرحد پار پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کی مقبولیت کی جانب ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔
پاکستانی ڈرامے اپنی کہانیوں، خاندانی موضوعات اور اداکاروں کی کارکردگی کے باعث طویل عرصے سے بھارتی ناظرین میں مقبول رہے ہیں، جبکہ کئی ڈراموں نے پاکستان سے باہر بھی بڑی تعداد میں شائقین حاصل کیے ہیں۔
تاہم، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے بارہا سیاسی کشیدگی، سفارتی تنازعات اور سکیورٹی سے متعلق پیش رفت سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی اور بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کے آغاز کے بعد پاکستانی تفریحی مواد پر پابندیوں کا معاملہ مزید نمایاں ہو گیا تھا۔
اس دوران بھارت میں متعدد پاکستانی شوبز شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس تک رسائی محدود کر دی گئی تھی، جس سے اداکار، گلوکار اور دیگر فنکار متاثر ہوئے۔
یہ پابندیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاکستانی تفریحی اور میڈیا مواد تک بھی پھیل گئیں، جس کے نتیجے میں بھارتی ناظرین کے لیے پاکستانی مواد تک رسائی مزید محدود ہو گئی۔
یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط میں آنے والی وسیع تر کشیدگی کا حصہ تھے، جو سیاسی اور فوجی تناؤ کے ادوار میں بارہا متاثر ہوتے رہے ہیں۔
فیصل قریشی کے بیانات ان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی ڈراموں نے عام زندگی، انسانی رشتوں اور سماجی مسائل کو بین الاقوامی ناظرین کے سامنے پیش کرکے پاکستان کے بارے میں منفی تصورات کو چیلنج کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، ان کا یہ دعویٰ کہ بھارت نے پاکستانی ڈراموں پر خاص طور پر اس لیے پابندیاں عائد کیں کیونکہ وہ ایک مخصوص بیانیے کو کمزور کر رہے تھے، اداکار کی ذاتی رائے ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے پابندیوں کی اس وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
فیصل قریشی کے ان بیانات کے بعد ایک بار پھر اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ تفریحی مواد سرحد پار ایک دوسرے کے بارے میں قائم تصورات پر کس حد تک اثرانداز ہوتا ہے اور سیاسی کشیدگی ٹیلی ویژن، فلم اور ڈیجیٹل میڈیا تک رسائی کو کیسے متاثر کرتی ہے۔
پابندیوں کے باوجود پاکستانی ڈرامے مختلف ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارمز کے ذریعے بین الاقوامی ناظرین تک پہنچ رہے ہیں، جو پاکستان کی ٹیلی ویژن صنعت میں عالمی سطح پر برقرار دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔





