کوئٹہ: نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) نے حکومتِ بلوچستان کے محکمہ ثقافت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت کراچی سے باہر ناپا کا پہلا کیمپس کوئٹہ میں قائم کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ پاکستان میں فنونِ لطیفہ کی تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ناپا نے منگل، 13 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اس معاہدے کا اعلان کیا۔ اس اشتراک کا مقصد بلوچستان میں فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھارنا اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر ناپا کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سید جاوید اقبال اور بلوچستان کے سیکریٹری ثقافت حمیداللہ ناصر نے دستخط کیے۔
معاہدے کی تقریب میں ناپا کی بورڈ ممبر اور سابق سینیٹر روشن خورشید بھروچا، ڈائریکٹر ثقافت داؤد ترین، فنکاروں، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید جاوید اقبال اور روشن خورشید بھروچا نے اس اشتراک کو بلوچستان میں فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
حمیداللہ ناصر اور داؤد ترین نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجوزہ کیمپس صوبے کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی فنکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بلوچستان کو گزشتہ برسوں کے دوران سکیورٹی چیلنجز، عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیاسی کشیدگی کے باعث قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل رہی ہے۔ تاہم صوبہ ایک بھرپور ثقافتی ورثے کا بھی حامل ہے، جسے مرکزی دھارے کی گفتگو میں نسبتاً کم جگہ ملتی ہے۔
بلوچستان کی ثقافتی روایات میں بلوچی، براہوی اور پشتو موسیقی، داستان گوئی، شاعری، تھیٹر اور فنونِ لطیفہ کی دیگر اصناف شامل ہیں، جو خطے کے لسانی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔
کوئٹہ میں ناپا کے کیمپس کا قیام ان ثقافتی روایات کو مزید اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اداکاری، موسیقی اور تھیٹر میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو اپنے ہی صوبے میں باقاعدہ تربیت کی سہولت میسر آنے سے انہیں تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کراچی یا لاہور جیسے بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام تجربہ کار فنکاروں اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس سے بلوچستان کی مقامی ثقافت اور فنون کو وسیع تر سامعین اور ناظرین تک پہنچانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انفرادی فنکارانہ صلاحیتوں کی ترقی کے علاوہ ایسے ادارے پرفارمنسز، ورکشاپس، نمائشوں اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے صوبے میں تخلیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
ناپا کی مجوزہ توسیع پاکستان کے بڑے شہروں سے باہر ثقافتی اداروں کے قیام کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
اگرچہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ملک کے کئی نمایاں ثقافتی ادارے اور فنونِ لطیفہ سے متعلق سرگرمیاں موجود ہیں، تاہم دیگر علاقوں میں باقاعدہ فنکارانہ تعلیم اور تربیت کے مواقع یکساں طور پر دستیاب نہیں۔
بلوچستان جیسے صوبوں میں ثقافتی اور تعلیمی اداروں کا قیام اس عدم توازن کو کم کرنے اور ان مقامی برادریوں کو نمائندگی فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کی فنکارانہ روایات اکثر نظرانداز ہو جاتی ہیں۔
ثقافتی تعلیم سماجی روابط کو مضبوط بنانے، مکالمے کو فروغ دینے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے تجربات اور خیالات کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بلوچستان کے لیے فنونِ لطیفہ کا ایک باقاعدہ ادارہ ایسا پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے جس کے ذریعے صوبے کو صرف سکیورٹی مسائل کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کی تخلیقی صلاحیتوں، ثقافتی ورثے اور فنکارانہ خدمات کی بنیاد پر بھی پہچان مل سکے۔
قومی سطح پر علاقائی فنونِ لطیفہ میں زیادہ سرمایہ کاری پاکستان کی ثقافتی شناخت کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط بنا سکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دنیا بھر کے ناظرین اور سامعین کو ملک کی متنوع موسیقی، تھیٹر اور داستان گوئی کی روایات سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
تاہم کوئٹہ کیمپس کی طویل المدتی کامیابی کا انحصار قابل اساتذہ کی دستیابی، مستقل مالی وسائل، قابلِ رسائی تربیتی پروگراموں اور مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مناسب مواقع فراہم کرنے پر ہوگا۔
تاحال کیمپس کے مقام، تعلیمی پروگراموں، داخلوں کے طریقہ کار اور افتتاح کی تاریخ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس کے باوجود یہ معاہدہ پاکستان میں فنونِ لطیفہ کے تعلیمی ڈھانچے کو وسعت دینے اور بلوچستان کی تخلیقی برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک ابتدائی مگر اہم قدم ہے۔





