ممبئی: بھارتی پلے بیک گلوکارہ شریا گھوشال کی ریکارڈنگ اکیڈمی کی ووٹنگ رکنیت حاصل کرنے سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد وہ خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ ریکارڈنگ اکیڈمی کے ووٹنگ ارکان گریمی ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں اور فاتحین کے انتخاب کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ اطلاعات سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جہاں مختلف پوسٹس میں گلوکارہ کی گریمی ایوارڈز کے ووٹنگ کے عمل میں ممکنہ شمولیت پر بات کی جا رہی ہے۔
تاہم ریکارڈنگ اکیڈمی نے تاحال شریا گھوشال کی رکنیت کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے۔
شریا گھوشال گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی موسیقی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ہندی، بنگالی، تامل، تیلگو، ملیالم، کنڑ اور دیگر زبانوں میں گانے ریکارڈ کیے ہیں۔
انہیں 2002 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم دیوداس میں پلے بیک گلوکاری کے ذریعے شہرت ملی، جس کے بعد وہ بھارتی فلمی موسیقی کی نمایاں آوازوں میں شامل ہو گئیں۔
اپنے کیریئر کے دوران شریا گھوشال نے فلمی موسیقی میں خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات حاصل کیے ہیں، جن میں کئی نیشنل فلم ایوارڈز بھی شامل ہیں۔
گریمی ایوارڈز کا انعقاد کرنے والی ریکارڈنگ اکیڈمی میں رکنیت کا ایک نظام موجود ہے، جس کے تحت اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے موسیقی کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اکیڈمی کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ووٹنگ ارکان مختلف کیٹیگریز میں گریمی ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں اور فاتحین کے تعین کے لیے موسیقی کی صنعت سے وابستہ افراد کے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔
اکیڈمی کی رکنیت کے لیے مخصوص اہلیت کے تقاضے پورے کرنا اور اکیڈمی کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاہم ووٹنگ رکنیت حاصل کرنا گریمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے یا ایوارڈ جیتنے سے الگ معاملہ ہے۔
اگر شریا گھوشال کی رکنیت سے متعلق اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ اکیڈمی کے متعلقہ قواعد کے تحت گریمی ایوارڈز کے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے کی اہل ہوں گی۔
اس پیش رفت نے بھارتی فلمی صنعت کی مختلف زبانوں میں ان کی خدمات اور عالمی سطح پر جنوبی ایشیائی موسیقی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث توجہ حاصل کی ہے۔
فی الحال شریا گھوشال کی گریمی ایوارڈز کی ووٹنگ باڈی میں شمولیت سے متعلق اطلاعات غیر مصدقہ ہیں اور اس حوالے سے ریکارڈنگ اکیڈمی یا خود گلوکارہ کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔





