نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان پر زور دے کہ وہ اپنے علاقے کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کریں۔
اسحاق ڈار نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر افغانستان سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امریکی فوج کے اگست 2021 میں افغانستان سے انخلا کا حوالہ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے اسے ایک ’’اہم موڑ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں اور اسی سال دسمبر میں افغانستان کے لیے عالمی حمایت متحرک کرنے کی غرض سے او آئی سی وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بھی منعقد کیا۔
انہوں نے کہا کہ توقع تھی کہ طالبان افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے دہشت گردی کا خاتمہ، شمولیت پر مبنی نظام کا فروغ اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے، تاہم یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبان کے لیے سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ وہ ’’ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات‘‘ کے ذریعے افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر خاص تشویش ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے کوہاٹ میں ایک مسجد پر خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اس واقعے میں کم از کم 24 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی کی کوششوں اور طالبان کو تنازع کے حل کے لیے قائل کرنے کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ طالبان سے دہشت گردی کے خاتمے، عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی ختم کرنے اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کرے۔
اسحاق ڈار نے کابل سے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے، منشیات، اسلحے اور انسانی اسمگلنگ پر قابو پانے اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں اسلامی اصولوں اور روایات کے منافی ہیں۔
انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کا بھی حوالہ دیا، جس میں افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
نائب وزیراعظم نے نسلی اور اقلیتی گروہوں کی شمولیت کے ساتھ ایک جامع سیاسی عمل پر زور دیا اور طالبان سے افغان واپس آنے والوں کی آبادکاری اور معاشرے میں انضمام کے لیے سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی امداد اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مالی معاونت کے ذریعے افغانستان کی مدد جاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے مستحکم اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن افغانستان کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے لیے طالبان کی جانب سے ’’باہمی احترام، خلوص اور ضروری سیاسی عزم‘‘ کا اظہار ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی کے ارکان افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مبینہ حملوں کے ذریعے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کابل کے ساتھ بامعنی روابط کے لیے افغان سرزمین سے کارروائی کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔





