ڈھاکا: بنگلہ دیش میں اکتوبر کے آغاز کے ساتھ ڈینگی کے کیسز اور اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے پہلے ہی خسرے کی وبا سے نمٹنے والے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ڈینگی سے کم از کم 245 افراد ہلاک جبکہ 79,620 مریض اسپتالوں میں داخل ہو چکے ہیں۔
ستمبر میں ڈینگی سے 148 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ اگست میں 43 اور جولائی میں 36 اموات ہوئی تھیں۔ بدھ کو مزید چھ افراد ہلاک ہوئے اور 1,948 مریض اسپتالوں میں داخل کیے گئے، جبکہ ملک بھر میں 5,485 مریض زیر علاج ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق ستمبر میں ہونے والی بارشوں کے اثرات اکتوبر میں بھی ڈینگی کے پھیلاؤ پر پڑ سکتے ہیں، کیونکہ بارش کے کئی ہفتوں بعد بھی کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طبی حشرات کے ماہر کبیرالبشار نے کہا کہ ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز مچھر بڑے شہروں سے باہر بھی پھیل چکا ہے، جس کے باعث مچھروں پر قابو پانا ملک گیر مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے ساتھ مچھروں کی افزائش کے مقامات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
محققین نے درجہ حرارت، بارش اور نمی کو بھی ڈینگی کے پھیلاؤ میں تبدیلی سے منسلک کیا ہے، جبکہ بدلتے موسمی حالات مچھروں کی افزائش کے دورانیے کو متاثر کر رہے ہیں۔
ڈینگی کے ساتھ بنگلہ دیش کو خسرے کی وبا کا بھی سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرے کے 21,520 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد نے خسرے یا اس سے ملتی جلتی علامات کے باعث طبی امداد حاصل کی۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال خسرے سے 1,100 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماہرین صحت نے کھڑے پانی کے خاتمے اور مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیک وقت متعدد بیماریوں کے پھیلاؤ سے صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔





