سڈنی: ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر، 12 اکتوبر کو ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی بلند قیمتوں، قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔
جنوبی کوریا کا اہم اسٹاک انڈیکس 3.1 فیصد گر گیا، جبکہ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چین کی بڑی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل انڈیکس 0.1 فیصد اور جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کی منڈیوں کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.4 فیصد نیچے آیا۔
دوسری جانب امریکی اور یورپی اسٹاک فیوچرز میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔
جاپان میں تعطیل اور امریکا میں جزوی تعطیل کے باعث کاروباری سرگرمیاں معمول سے کم رہیں۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکا کے بڑے بینکوں کے سہ ماہی مالیاتی نتائج پر مرکوز ہے، جن کا اعلان منگل سے شروع ہوگا۔ دنیا کی بڑی سیمی کنڈکٹر کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے نتائج بھی جمعرات کو متوقع ہیں۔
مالیاتی تجزیاتی ادارے ایل ایس ای جی آئی بی ای ایس کے اندازوں کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کے منافع میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے، جس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بڑا حصہ ہوگا۔
تاہم ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ کاری اور اس کے لیے بڑھتے ہوئے قرضوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی آمدنی مستقبل میں سرمایہ کاری اور قرضوں کی بڑھتی لاگت پوری کر سکے گی یا نہیں۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے مجوزہ معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔
تاہم روس اور یوکرین میں سے کسی نے بھی اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ روسی ڈیزل کی برآمدات بڑھانے کی امریکی تجویز پر بعض امریکی قانون سازوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 1.3 فیصد کمی کے بعد 103.38 ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.7 فیصد سستا ہو کر 90.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
قیمتوں میں کمی کے باوجود خلیجی خطے میں بحری جہازوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سرمایہ کار امریکا میں رواں ہفتے جاری ہونے والے مہنگائی کے اعدادوشمار کے بھی منتظر ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث سالانہ مہنگائی کی شرح 3.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ اعدادوشمار امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو اور دیگر بڑے مرکزی بینکوں کے شرحِ سود سے متعلق آئندہ فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ سونے کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 4198 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق بڑی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج، امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار اور عالمی سیاسی صورتحال رواں ہفتے اسٹاک اور توانائی کی منڈیوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔





