پیرس: فرانسیسی فضائی کمپنی ایئر فرانس نے تصدیق کی ہے کہ وہ فلسطین میں قابض قوتوں کی جانب سے قومیت کی بنیاد پر عائد کردہ پابندیوں پر عمل کر رہی ہے، جن کے تحت پاکستانی پائلٹس اور کیبن کریو کو قابض قوتوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں آنے اور جانے والی پروازوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔
14 اور 15 اکتوبر کو شائع ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندیاں ان 31 مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر لاگو ہوتی ہیں جن کے فلسطین میں قابض قوتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان، ایران، عمان، سعودی عرب، بنگلہ دیش، افغانستان اور انڈونیشیا شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان پابندیوں کا اطلاق دہری شہریت رکھنے والے فضائی عملے کے ارکان پر بھی ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلسطین میں قابض قوتوں نے 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ان پابندیوں پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا۔
بعد ازاں یکم اکتوبر کو قابض قوتوں کی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور روڈ سیفٹی نے غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو عملے کی قومیت سے متعلق شرائط سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔
اگرچہ اس نوعیت کی پابندیاں پہلے سے موجود تھیں، تاہم رپورٹس کے مطابق اب قابض قوتوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں آنے اور جانے والی پروازوں پر تعینات عملے کی قومیت کی زیادہ سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ اسے ان ممالک اور علاقوں کے داخلے سے متعلق قوانین اور ضوابط کی پابندی کرنا ہوتی ہے جہاں اس کی پروازیں جاتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ ملازمین کو بھی ان شرائط سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم فرانسیسی پائلٹس کی یونین 'آلٹر' نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز اور جمہوریہ چیک کی فضائی کمپنی اسمارٹ ونگز نے بھی فلسطین میں قابض قوتوں کی عائد کردہ شرائط پر عمل درآمد کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز نے ان پابندیوں کو اپنے فضائی عملے کی ڈیوٹیوں کے تعین کے نظام میں شامل کر لیا ہے، جبکہ اسمارٹ ونگز کا کہنا ہے کہ ان شرائط سے اس کی پروازوں کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ یہ پابندیاں صرف فلسطین میں قابض قوتوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں آنے اور جانے والی پروازوں پر فضائی عملے کی تعیناتی سے متعلق ہیں۔ ان کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی پائلٹس پر بین الاقوامی فضائی کمپنیوں میں ملازمت کرنے کی عمومی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ان اقدامات کے بعد بین الاقوامی فضائی صنعت میں قومیت کی بنیاد پر ملازمت سے متعلق پابندیوں، امتیازی سلوک اور فضائی آپریشنز پر ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔





