ریاض: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی مشرقی مغربی خام تیل کی پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دعویٰ اتوار کو ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
سعودی حکام نے تیل کی تنصیبات یا ایئرپورٹ پر مبینہ حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں کسی نقصان، جانی نقصان یا تیل کی ترسیل میں خلل پڑنے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق، فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے والے دو لانچرز تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ اتحادی افواج کے مطابق ان میں سے ایک لانچر ریاض کی جانب میزائل داغنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
تاہم دستیاب اطلاعات سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تیل کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ایئرپورٹ پر مبینہ حملے اسی کارروائی کا حصہ تھے جس کے دوران ریاض کی جانب داغا گیا میزائل تباہ کیا گیا۔
سعودی تیل کی تنصیبات کی اہمیت اور علاقائی صورتحال
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ملک کے مشرقی علاقوں میں پیدا ہونے والا خام تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع تنصیبات تک پہنچاتی ہے۔
اس راستے کی بدولت سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے پر انحصار نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشن سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
ان تنصیبات کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی تصدیق کی صورت میں تیل کی نقل و حمل اور برآمدات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب تک ایسے کوئی مصدقہ شواہد سامنے نہیں آئے جن سے ظاہر ہو کہ حالیہ مبینہ حملوں میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے یا تیل کی ترسیل معطل ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کے حالیہ سلسلے کے دوران سامنے آئی ہے۔
اتوار کو سعودی حکام نے ریاض اور ملک کے جنوبی علاقوں کی فضائی حدود میں میزائلوں اور دیگر فضائی اہداف کو روکنے کی اطلاع دی، جبکہ شہری دفاع کے حکام نے ہنگامی انتباہات جاری کیے، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔
حوثیوں کے تازہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ حملوں کے باعث تقریباً دو ہفتے کی بندش کے بعد 25 اکتوبر کو پروازیں دوبارہ شروع کی گئی تھیں۔
تاہم ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن محدود پیمانے پر بحال ہوا تھا اور متعدد پروازیں بدستور منسوخ تھیں۔
یہ صورتحال یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کا حصہ ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان جاری وسیع تر علاقائی تنازع کے پس منظر میں سامنے آ رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اتحادی افواج نے یمن سے داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات دی ہیں۔
26 اکتوبر کو رائٹرز کی تازہ ترین رپورٹ تک سعودی عرب نے حوثیوں کے حالیہ دعووں کے مطابق ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں یا ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
اس لیے مبینہ حملوں میں ہونے والے نقصان، توانائی کی فراہمی اور ہوائی اڈے کے آپریشنز پر ممکنہ اثرات سے متعلق صورتحال تاحال غیر مصدقہ ہے۔




