جدہ: سعودی عرب نے ہدایت کار باطہاف کی فلم ’آف لائف اینڈ ڈیتھ‘ کو مارچ 2027 میں ہونے والے 99ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے اپنی سرکاری انٹری کے طور پر منتخب کیا ہے۔
2025 میں بننے والی اس رومانوی ڈارک کامیڈی فلم کی کہانی موجودہ دور کے شہر جدہ کے پس منظر میں ترتیب دی گئی ہے۔ فلم کی کہانی سارہ طیبہ نے تحریر کی ہے، جو یعقوب الفرحان کے ساتھ مرکزی کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔
سارہ طیبہ نے فلم میں حیات نامی خاتون کا کردار ادا کیا ہے، جسے یقین ہے کہ ایک خاندانی بددعا کے باعث وہ 30 سال کی عمر میں انتقال کر جائے گی۔ دوسری جانب یعقوب الفرحان نے یوسف نامی دل کے سرجن کا کردار نبھایا ہے، جس کی دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر سست ہے اور اس کیفیت نے اس کے ذاتی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔
دونوں کرداروں کی ملاقات سے ایک ایسی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو توہم پرستی، موت، انسانی رشتوں اور ذاتی فیصلوں پر خوف کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔
فلم کا پریمیئر دسمبر 2025 میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا تھا، جس کے بعد جون 2026 میں اسے سعودی عرب کے سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔
بارہویں سعودی فلم فیسٹیول میں فلم کو جیوری کی جانب سے خصوصی اعزاز دیا گیا، جبکہ سارہ طیبہ نے اپنی اداکاری پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا۔
فلم کی تیاری میں فلم کلینک، فرنٹ رو فلمڈ انٹرٹینمنٹ اور عریبیہ پکچرز نے حصہ لیا، جبکہ ریڈ سی فنڈ نے بھی اس منصوبے کی معاونت کی۔
یہ اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری میں سعودی عرب کی نویں سرکاری انٹری ہے۔
اکیڈمی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 15 فلموں پر مشتمل شارٹ لسٹ 15 دسمبر 2026 کو جاری کی جائے گی، جبکہ حتمی نامزدگیوں کا اعلان 21 جنوری 2027 کو ہوگا۔ آسکر ایوارڈز کی تقریب 14 مارچ 2027 کو منعقد ہونا طے ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے فلم کو آسکر کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 پروگرام کے تحت ملک کے ثقافتی اور تفریحی شعبوں میں تبدیلیاں جاری ہیں۔
سعودی حکومت سیاحت، تفریح اور دیگر صنعتوں کو فروغ دے کر تیل پر معاشی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت بعض سماجی پابندیوں میں نرمی، عوامی تفریحی سرگرمیوں میں توسیع اور فلم سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب نے 2018 میں سنیما گھروں پر عائد 35 سالہ پابندی ختم کر دی تھی، جس کے بعد تجارتی بنیادوں پر سنیما گھروں کی دوبارہ سرگرمیاں شروع ہوئیں اور مقامی فلم سازوں اور تقسیم کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
بین الاقوامی فلمی تقریبات میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی شرکت بھی ملکی فلمی صنعت کو ترقی دینے اور غیر ملکی فلمی منصوبوں کو راغب کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تاہم سعودی فلمی صنعت میں یہ توسیع ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں عدم استحکام نے کئی ثقافتی تقریبات کو بھی متاثر کیا ہے۔
ستمبر میں ریڈ سی فلم فاؤنڈیشن نے اعلان کیا تھا کہ جدہ میں 3 سے 12 دسمبر 2026 تک ہونے والا چھٹا ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب اسے 2027 کی آخری سہ ماہی میں منعقد کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سیکیورٹی کشیدگی کے دوران سامنے آیا، تاہم منتظمین نے میلے کے التوا کی وجہ براہِ راست علاقائی تنازع کو قرار دینے کے بجائے انتظامی اور شیڈول سے متعلق معاملات کو بتایا۔
فاؤنڈیشن کے مطابق فیسٹیول ملتوی ہونے کے باوجود ریڈ سی فنڈ اور ریڈ سی لیبز سمیت اس کے دیگر منصوبے فلم سازوں کی معاونت جاری رکھیں گے۔
فلم ’آف لائف اینڈ ڈیتھ‘، جسے انگریزی میں ’اے میٹر آف لائف اینڈ ڈیتھ‘ کے نام سے بھی رپورٹ کیا گیا ہے، کا آسکر کے لیے انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اپنی فلمی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے باعث بعض ثقافتی تقریبات کے شیڈول میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
تاہم فلم کو آسکر کی حتمی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ابھی اکیڈمی کے انتخابی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ حتمی نامزد فلموں کا اعلان جنوری 2027 میں کیا جائے گا۔





