لندن: آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابیں اب برطانیہ میں فروخت نہیں کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ ان کی فلسطین کی حامی کالعدم تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت سے متعلق قانونی پابندیوں کے باعث ان کے پبلشر فیبر کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان بدھ، 14 اکتوبر کو کیا گیا۔ پبلشر کے مطابق، موجودہ برطانوی قوانین کے تحت کمپنی اب برطانیہ میں کتابوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سیلی رونی کو منتقل نہیں کر سکتی۔
سیلی رونی مقبول ناولوں نارمل پیپل، کنورسیشنز ود فرینڈز اور بیوٹی فل ورلڈ، ویئر آر یو کی مصنفہ ہیں۔ وہ کھل کر فلسطین ایکشن کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اس سے قبل اپنی کتابوں کی رائلٹی سے تنظیم کی مالی معاونت کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکی ہیں۔
برطانوی حکومت نے 2025 میں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ فیصلہ اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کے خلاف تنظیم کے متعدد احتجاجی مظاہروں اور براہِ راست کارروائیوں کے بعد کیا گیا تھا۔
ایک بیان میں پبلشر فیبر نے تصدیق کی کہ سیلی رونی کے ساتھ اتفاقِ رائے کے بعد برطانیہ میں ان کی کتابوں کی تمام فارمیٹس میں فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، کمپنی کے مطابق ان کی کتابیں دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بدستور دستیاب رہیں گی۔
فیبر نے وضاحت کی کہ قانونی پابندیوں کے باعث ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی جس میں کمپنی برطانیہ میں رونی کی کتابیں فروخت تو کر سکتی تھی، لیکن ان سے حاصل ہونے والی آمدنی مصنفہ کو منتقل نہیں کر سکتی تھی۔
پبلشر نے کسی مصنف کی کتابیں فروخت کرنے کے باوجود اسے اس کی آمدنی ادا نہ کر سکنے کی صورتِ حال کو ناقابلِ قبول قرار دیا، جس کے بعد برطانوی مارکیٹ سے ان کی کتابیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
سیلی رونی اس سے قبل لندن کی ہائی کورٹ میں فلسطین ایکشن پر پابندی کے خلاف جاری قانونی کارروائی کے دوران جمع کرائے گئے اپنے گواہی بیان میں خبردار کر چکی تھیں کہ اس معاملے کے نتیجے میں ان کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند ہو سکتی ہے۔
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے ناول نگار نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات اور ارادوں کے بارے میں عوام کے سامنے ہمیشہ واضح مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں اور اپنے فیصلے کے نتائج قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے برطانوی حکومت کے اقدام کے خلاف قانونی تنازع جاری ہے۔
جون 2025 میں کارکنوں کے رائل ایئر فورس کے برائز نورٹن فضائی اڈے میں داخل ہونے کے واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بعد ازاں فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدیٰ عموری نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا۔ فروری 2026 میں ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا، تاہم جون میں کورٹ آف اپیل نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
توقع ہے کہ اس مقدمے کی سماعت نومبر میں برطانیہ کی سپریم کورٹ میں ہوگی۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کو شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ان تنظیموں نے اس اقدام کے آزادیٔ اظہار اور احتجاج کے حق پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے تنظیم کی حمایت میں پلے کارڈز اٹھانے پر تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
برطانوی کتابی منڈی سے سیلی رونی کی کتابوں کی واپسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ قوانین کے اثرات صرف متعلقہ تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ پبلشرز، مصنفین اور ادبی تخلیقات کی تقسیم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
اگرچہ سیلی رونی کی کتابیں بین الاقوامی سطح پر دستیاب رہیں گی، تاہم پبلشر فیبر نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ برطانیہ میں ان کی کتابوں کی فروخت کب دوبارہ شروع ہو سکے گی۔





