اقوام متحدہ: پاکستان نے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کے مقاصد شہری استعمال کے لیے بین الاقوامی تعاون میں رکاوٹ نہیں بننے چاہییں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کی رپورٹ پر جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران یہ مؤقف پیش کیا، ریڈیو پاکستان نے ہفتے کو بتایا۔
انہوں نے پُرامن جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے آئی اے ای اے اور دوسرے رکن ممالک کے ساتھ شراکت مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ مطالبہ پاکستان کے دیرینہ مؤقف کا تسلسل ہے کہ شہری جوہری تعاون تک رسائی مساوی اور غیر امتیازی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ دفتر خارجہ اس مؤقف کو ملک کی توانائی کی ضروریات اور صحت، زراعت، صنعت اور آبی وسائل کے شعبوں میں تعاون سے جوڑتا ہے۔
پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال صرف بجلی گھروں تک محدود نہیں۔ آئی اے ای اے کا تکنیکی تعاون پروگرام صحت، خوراک کی پیداوار، آبی وسائل اور ماحول کے تحفظ کے لیے تربیت، مہارت اور آلات کی فراہمی میں مدد دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت اور آئی اے ای اے کے مشترکہ مرکز کے مطابق جوہری تکنیک فصلوں کی اقسام بہتر بنانے، نقصان دہ کیڑوں کے تدارک اور زمین و پانی کے انتظام میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
اس تعاون کے ساتھ تصدیق اور نگرانی کی شرائط بھی وابستہ ہیں۔ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے، این پی ٹی، کا فریق نہیں، تاہم مخصوص جوہری مواد اور تنصیبات کے لیے اس کے آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے موجود ہیں۔
انہیں مخصوص مواد اور تنصیبات پر لاگو ہونے والے حفاظتی نگرانی کے معاہدے کہا جاتا ہے۔ ان کا مقصد تصدیق کرنا ہے کہ معاہدے کے تحت آنے والا مواد اور آلات پُرامن استعمال میں رہیں۔ ان معاہدوں کا مطلب پاکستان کے پورے جوہری پروگرام کا بین الاقوامی معائنہ نہیں ہے۔
پاکستان ایجنسی سے تعاون حاصل کرنے کے ساتھ اپنی مہارت بھی فراہم کرتا ہے۔ فروری میں ویانا میں وزیراعظم شہباز شریف اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی کی ملاقات کے دوران پاکستانی ماہرین اور بین الاقوامی تربیتی سرگرمیوں پر بھی بات ہوئی تھی۔
اسی دورے میں لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی، انمول، کو آئی اے ای اے کا اشتراکی مرکز نامزد کرنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ یہ بجلی کی پیداوار سے آگے جوہری تعاون کی ایک عملی مثال ہے۔
تازہ بیان وسیع تر رسائی کے لیے پاکستان کے سفارتی مؤقف کا اعادہ ہے۔ اس میں کسی نئے جوہری سپلائی معاہدے یا ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق بین الاقوامی شرائط میں تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔





