لاہور: لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے 12 سے 14 مارچ 2027 تک تین روزہ بسنت منانے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے، تاہم پتنگ بازی کے لیے سخت حفاظتی شرائط اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز کی جانب سے جمعہ، 23 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بسنت کی تاریخوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 29 جنوری سے 7 فروری تک دس روزہ بسنت منانے کا اعلان کیا تھا، تاہم انتظامی اور عملی مشکلات کے باعث حکومت نے دوبارہ تین روزہ تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاہور میں فروری 2026 کے دوران 18 سال بعد بسنت کی واپسی ہوئی تھی۔
پنجاب میں پتنگ بازی سے متعلق قانون کے تحت ضلعی انتظامیہ کو مخصوص دنوں اور مقامات پر حفاظتی شرائط کے ساتھ بسنت کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور میں پتنگ بازی صرف 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو کی جا سکے گی۔
تاہم علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب طیاروں کی آمدورفت کے راستوں میں آنے والے مخصوص علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ان علاقوں میں نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک، ڈی ایچ اے لاہور کے بعض بلاکس، الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل اور تاج پورہ شامل ہیں۔
انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کے لیے بھی سخت ضوابط مقرر کیے ہیں۔
دھاتی تار، نائلون کی ڈور، خطرناک کیمیکل یا دیگر نقصان دہ مواد سے تیار کردہ ڈور اور چرخی کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
پتنگیں اور ڈور تیار کرنے والے افراد، تاجروں اور دکانداروں کے لیے پنجاب حکومت کی ای بز ایپلی کیشن کے ذریعے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
صرف رجسٹرڈ دکانداروں کو منظور شدہ پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔
عوام کے لیے پتنگوں اور ڈور کی فروخت 10 فروری سے شروع ہوگی اور 14 مارچ 2027 تک جاری رہے گی۔
بسنت کے دوران چھتوں اور موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جن چھتوں پر پتنگ بازی کی جائے گی، وہاں کم از کم ساڑھے تین فٹ اونچی مضبوط حفاظتی دیوار ہونا ضروری ہوگی۔ غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ متعلقہ عمارتوں کا معائنہ کرے گی۔
اس کے علاوہ ٹریفک پولیس بسنت سے پہلے 20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلوں پر مفت حفاظتی راڈز نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
حفاظتی پابندیوں کی بنیادی وجہ ماضی میں پتنگ کی خطرناک ڈور سے ہونے والے حادثات ہیں، جن کے باعث 2007 میں بسنت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔





