اسلام آباد: پاکستان نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے سفارت کاری جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کی مشروط پیشکش برقرار رکھی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار 18 اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے علاقائی مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر بھی گفتگو کی اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
بغداد اجلاس سے خطاب میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران دھمکیوں اور دباؤ کے تحت اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تہران باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی سات روزہ تجویز بدستور موجود ہے۔ امریکا نے اس پر اپنی آرا دی ہیں، جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ایران کی شرائط میں اس کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل کی برآمدات پر پابندیوں کا اٹھایا جانا اور علاقائی محاذوں پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ شرائط قبول ہونے پر آبنائے ہرمز چھ دن میں کھولی جاسکتی ہے اور اگلے روز مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل ریجنل فور، یعنی آر فور، کے تحت تعاون اور آئندہ اجلاس میں علاقائی امور پر مزید رابطہ کاری پر بھی بات کی۔
دوسری جانب ایران کے نئے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا کہ دوبارہ امریکی حملے کی صورت میں واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک دوبارہ حملے کا امکان کم ہے، تاہم ایسا ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔





