.کوئٹہ: پاکستان نے سیکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور انتظامی مسائل کے باعث گبد ریمدان (250) اور تفتان کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارت معطل کر دی ہے۔
وزارتِ تجارت نے جمعے کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے 3 اکتوبر کو جاری کردہ اپنا سابقہ حکم نامہ فوری طور پر واپس لے لیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش کا مقصد سیکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شاہد رند نے سرحدی بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ صرف تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے حکام انتظامی معاملات کے حل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اور مذاکرات میں پیش رفت کے بعد سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولی جا سکتی ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کو عارضی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے بندش کی وجہ تکنیکی مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (QCCI) نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے اعلان تک درآمدات اور برآمدات کے نئے آرڈرز دینے سے گریز کریں۔
اطلاعات کے مطابق مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، چاول، پھل اور دیگر اشیا لے جانے والی سیکڑوں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب پھنس گئی ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی وانا کے مطابق ریمدان گبد سرحدی گزرگاہ سے مسافروں کی آمدورفت جاری ہے، تاہم تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
یہ سرحدی گزرگاہ پاکستان میں ایل پی جی کی درآمد کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ 4 ہزار ٹن سے زائد ایل پی جی ملک میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی راستے سے پاکستانی چاول اور دیگر مصنوعات بھی ایران برآمد کی جاتی ہیں۔
تاجروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
تفتان کی سرحدی گزرگاہ پہلے ہی بلوچستان میں بدامنی کے باعث تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی تھی، جس کے بعد حالیہ معطلی سے سرحد پار تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کاروباری نمائندوں نے تاجروں کو مالی نقصانات، حکومتی محصولات میں کمی اور سرحدی تجارت سے وابستہ کارکنوں کے روزگار متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔
تجارتی سرگرمیوں کی یہ معطلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد اور تہران نے مارچ سے دوطرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے تھے، جن میں کسٹمز کے طریقہ کار میں تبدیلیاں اور تجارتی راہداریوں کی منظوری شامل تھی۔
اگست میں ایران کے وزیر تجارت و صنعت محمد اتابک کی سربراہی میں ایک وفد نے پاکستان ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے سرحدی گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے، نقل و حمل کے انتظامات بہتر بنانے اور کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
تاہم بلوچستان کی دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے تجارت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جیاند ہوت نے بتایا کہ پنجگور اور مند ردیگ کے راستوں سے تجارتی سرگرمیاں سڑکوں کی خراب حالت اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے باعث محدود ہیں۔
حکام نے تاحال گبد ریمدان اور تفتان کی سرحدی گزرگاہوں سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔





