کراچی: پاکستان کے معروف قوال استاد فرید ایاز نے مبینہ طور پر قوالی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کے بچے خاندان کی موسیقی کی میراث کو آگے بڑھائیں گے۔
ایک حالیہ تقریب میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرید ایاز نے کہا کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق سامعین کے لیے قوالی پیش کی اور اپنی زندگی موسیقی کے لیے وقف کر دی۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان کی قوالی کی روایت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اب نئی نسل سنبھالے گی۔ تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کی مزید تفصیلات اور یہ کہ آیا وہ تمام عوامی محفلوں میں پرفارم کرنا چھوڑ دیں گے، تاحال واضح نہیں ہو سکا۔
فرید ایاز کا تعلق ’قوال بچوں کے گھرانے‘ سے ہے، جو برصغیر میں کلاسیکی قوالی کے فروغ اور اس کی روایات کے تحفظ کے حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
وہ اپنے بھائی ابو محمد کے ساتھ قوالی پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ دونوں فنکار پاکستان اور بیرونِ ملک مختلف محفلوں میں روایتی قوالیاں، صوفیانہ کلام اور کلاسیکی موسیقی پیش کرتے رہے ہیں۔
ان کے پیش کردہ کلام میں حضرت امیر خسرو اور دیگر صوفی شعرا کی شاعری شامل ہے، جو ان کے خاندان کی صوفیانہ موسیقی سے دیرینہ وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔
اپنے طویل فنی سفر کے دوران فرید ایاز نے قوالی کے روایتی انداز، کلاسیکی گائیکی کی تکنیک اور قدیم کلام کو برقرار رکھتے ہوئے اس فن کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں بھی کردار ادا کیا۔
ان کی ریٹائرمنٹ کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خاندان کے نوجوان افراد قوالی کی روایت کو جاری رکھنے اور اس کے تحفظ کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرید ایاز کا یہ اعلان خاندان میں قوالی کی قیادت نئی نسل کو منتقل ہونے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کی باضابطہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ یا آئندہ پرفارمنسز کے حوالے سے ابھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔





