لندن: ڈچس آف سسیکس میگھن مارکل کو مبینہ طور پر لندن کے کلیریجز ہوٹل میں پاکستانی سماجی کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ عشائیہ کرتے دیکھا گیا۔
برطانوی جریدے ’ہیلو!‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں شخصیات شام کے وقت ہوٹل میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتی نظر آئیں۔
جریدے نے اس ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی دونوں شخصیات کی ملاقات نے توجہ حاصل کی۔
میگھن مارکل اور ملالہ یوسفزئی میں سے کسی نے بھی تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی یا اتفاقاً ہوئی۔ دونوں نے اپنی گفتگو کی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کیں۔
میگھن مارکل نے 2018 میں برطانوی شہزادہ ہیری سے شادی کی تھی۔ وہ اپنے فلاحی اور میڈیا منصوبوں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات اور مواقع تک رسائی سے متعلق اقدامات میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
2020 میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی جانب سے برطانوی شاہی خاندان کے فعال سینئر ارکان کی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد میگھن نے آرچ ویل فاؤنڈیشن اور دیگر منصوبوں کے ذریعے اپنی سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
دوسری جانب ملالہ یوسفزئی ’ملالہ فنڈ‘ کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بین الاقوامی مہمات میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے یہ تنظیم اپنے والد ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ مل کر قائم کی تھی۔
ملالہ یوسفزئی 2012 میں وادی سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے پر طالبان کے حملے میں زندہ بچ گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد وہ تعلیم تک رسائی کے حق میں بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہو گئیں۔
2014 میں ملالہ یوسفزئی کو بھارتی بچوں کے حقوق کے کارکن کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 17 سال تھی اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔
اس کے بعد سے ملالہ کی سرگرمیوں کا مرکز لڑکیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا رہا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں جنگ، غربت اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں کے باعث تعلیم تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔
میگھن مارکل اور ملالہ یوسفزئی اس سے قبل اکتوبر 2020 میں لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک آن لائن گفتگو میں بھی ایک ساتھ شریک ہو چکی ہیں۔
اس گفتگو کے دوران دونوں نے تعلیم کی اہمیت اور دنیا بھر میں لڑکیوں کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
لندن میں ان کی حالیہ مبینہ ملاقات نے اسی سابقہ رابطے اور خواتین کی تعلیم اور حقوق سے متعلق دونوں کی سرگرمیوں کے باعث توجہ حاصل کی ہے۔
لندن کے علاقے مے فیئر میں واقع کلیریجز ہوٹل میں معروف شخصیات، کاروباری رہنماؤں اور بین الاقوامی مہمانوں کی آمدورفت معمول کا حصہ ہے۔
دونوں شخصیات کو ایک ساتھ دیکھے جانے کی اطلاعات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی گفتگو شروع ہو گئی ہے، تاہم میگھن مارکل اور ملالہ یوسفزئی کے درمیان کسی نئے مشترکہ منصوبے یا تعاون کا اعلان نہیں کیا گیا۔
فی الحال ان کی حالیہ ملاقات کی نوعیت اور مقصد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔





