لندن: پاکستانی سماجی کارکن اور نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو بدھ، 7 اکتوبر کو لندن کے علاقے مے فیئر میں واقع معروف کلیرجز ہوٹل میں دوپہر کی چائے پر ملاقات کے بعد ڈچس آف سسیکس میگھن مارکل کے ساتھ دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دونوں شخصیات کو ہوٹل میں ایک ساتھ وقت گزارنے کے بعد باہر رخصت ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان تصاویر نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، جس کے بعد پاکستانی سماجی کارکن اور برطانوی شاہی خاندان کی سابق فعال رکن کے درمیان دوستی ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔
امریکی جریدے پیپل کے مطابق، یہ ملاقات کسی پہلے سے اعلان کردہ عوامی تقریب کا حصہ نہیں تھی بلکہ دو دوستوں کے درمیان ایک غیر رسمی ملاقات تھی۔
اطلاعات کے مطابق، دونوں نے ہوٹل کے فوئیر اینڈ ریڈنگ روم میں دوپہر کی چائے سے لطف اندوز ہو کر وقت گزارا، جبکہ ان کی ملاقات کی تصاویر بعد میں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔
یہ ملاقات اگست 2026 میں میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ واپسی کے بعد لندن میں میگھن کی پہلی معلوم عوامی موجودگی بھی قرار دی جا رہی ہے۔
اگرچہ برطانیہ واپسی کے بعد میگھن مارکل کی عوامی سرگرمیاں نسبتاً محدود رہی ہیں، تاہم ملالہ یوسفزئی کے ساتھ ان کی ملاقات نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ دونوں شخصیات ماضی میں خواتین کے حقوق اور تعلیم سے متعلق گفتگو میں حصہ لے چکی ہیں۔
اس سے قبل اکتوبر 2020 میں دونوں خواتین نے لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک آن لائن گفتگو میں شرکت کی تھی۔
اس گفتگو کے دوران ملالہ یوسفزئی نے میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں اور نوجوان خواتین کے لیے تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں مشترکہ دلچسپی دونوں شخصیات کے درمیان تعلق کا ایک اہم پہلو رہی ہے۔
ملالہ یوسفزئی، جنہوں نے 2014 میں کم عمر ترین نوبیل امن انعام یافتہ شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا، آج بھی ملالہ فنڈ کے ذریعے عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں۔
وہ پاکستان کی واحد خاتون نوبیل انعام یافتہ شخصیت ہیں اور تعلیم کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کے باعث بین الاقوامی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔
دوسری جانب میگھن مارکل 2020 میں شہزادہ ہیری کے ہمراہ شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کے بعد فلاحی اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رہی ہیں۔
لندن میں ہونے والی اس ملاقات کو ملنے والی توجہ کے باوجود ملالہ یوسفزئی یا میگھن مارکل کی جانب سے اس موقع پر کسی نئے مشترکہ منصوبے کا عوامی اعلان نہیں کیا گیا۔
فی الحال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر دو معروف شخصیات کے درمیان ایک دوستانہ ملاقات کی عکاسی کرتی ہیں، جو ماضی میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ طور پر آواز اٹھا چکی ہیں۔





