ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور خان نے گوگل انڈیا کے اشتراک سے تیار کی گئی ایک ویڈیو میں فارمولا ون ڈرائیور لینڈو نورس کا انٹرویو کیا، جس میں بھارتی سنیما اور بین الاقوامی موٹر اسپورٹس کی دنیا کو ایک ساتھ پیش کیا گیا۔
اس خصوصی گفتگو میں کرینہ کپور نے میزبان کا کردار ادا کرتے ہوئے لینڈو نورس سے ان کے ریسنگ کیریئر اور فارمولا ون کے تجربات کے بارے میں سوالات کیے، جبکہ انہیں بھارتی ثقافت کے مختلف پہلوؤں سے بھی متعارف کرایا۔
روایتی اسپورٹس انٹرویوز کے برعکس اس گفتگو کا انداز غیر رسمی اور دلچسپ رہا، جہاں کرینہ کپور نے اپنے مخصوص انداز، مزاح اور چہرے کے تاثرات سے بات چیت کو خوشگوار بنائے رکھا۔
انٹرویو کے ایک حصے میں اداکارہ نے لینڈو نورس کو بھارتی ثقافت میں استعمال ہونے والے مختلف اشارے سکھائے، ان کے معنی سمجھائے اور انہیں خود بھی یہ اشارے آزمانے کی ترغیب دی۔
دونوں شخصیات چائے سے بھی لطف اندوز ہوئیں، جبکہ کرینہ کپور نے برطانوی ریسنگ ڈرائیور کو چائے کے دوران گپ شپ کرنے کی بھارتی روایت سے متعارف کرایا۔
اس موقع پر کرینہ کپور نے انگریزی محاورے ’اسپل دی ٹی‘ کا دلچسپ استعمال کرتے ہوئے نورس کو اپنی زندگی اور کیریئر سے متعلق باتیں بتانے کی ترغیب دی۔ وہ ان کے جوابات پر اپنے مخصوص تاثرات اور مزاحیہ انداز میں ردعمل بھی دیتی رہیں۔
یہ اشتراک لینڈو نورس کے لیے ایک مختلف تجربہ تھا، کیونکہ وہ عموماً فارمولا ون ریسوں میں اپنی کارکردگی، ٹیم کی حکمت عملی اور مقابلوں سے متعلق گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
میک لارن ٹیم کی نمائندگی کرنے والے لینڈو نورس نے اپنے فارمولا ون کیریئر اور سوشل میڈیا پر موجودگی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر مداحوں کی بڑی تعداد حاصل کی ہے۔
دوسری جانب کرینہ کپور خان کے لیے یہ انٹرویو فلمی دنیا سے ہٹ کر ان کی سرگرمیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ وہ اداکاری کے علاوہ انٹرویوز، مختلف برانڈز کے ساتھ اشتراک اور ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ کے منصوبوں میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں۔
گوگل انڈیا کے ساتھ یہ اشتراک اس بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے جس میں معروف شخصیات کی گفتگو کے ذریعے تفریح، کھیل اور مقبول ثقافت سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں کے ناظرین کو ایک دوسرے سے متعارف کرایا جاتا ہے۔
اس انٹرویو میں کرینہ کپور کی اسکرین پر موجودگی اور لینڈو نورس کے موٹر اسپورٹس کے تجربات کو بھارتی ثقافتی روایات اور غیر رسمی گفتگو کے ساتھ پیش کیا گیا، جس سے فارمولا ون ڈرائیور کو ریسنگ کی دنیا سے باہر کے ناظرین تک پہنچنے کا موقع ملا۔





