تہران: ایران نے امریکا سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اپنی تجویز قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یہ پیشکش اب بھی برقرار ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی شرائط پر رضامند ہو جائے تو ایران چھ روز کے اندر آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ انتظام کے تحت ساتویں روز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
اس تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل دونوں ممالک کے درمیان معاہدے سے مشروط ہے، جس کے لیے واشنگٹن کی جانب سے تہران کی شرائط قبول کرنا ضروری ہوگا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
اس آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں توانائی کی فراہمی اور تجارت کو متاثر کرتی ہیں، جس کے باعث خلیجی ممالک کی برآمدات پر انحصار کرنے والے ملکوں کو خدشات کا سامنا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں ان شرائط کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جنہیں واشنگٹن کو قبول کرنا ہوگا۔
یہ تجویز تاحال دونوں حکومتوں کے درمیان معاہدے سے مشروط ہے۔ رپورٹ میں امریکا کی جانب سے اس پیشکش کو قبول کرنے کی کسی تصدیق کا ذکر نہیں کیا گیا۔





