برازیلیا: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا اتوار کو دوبارہ صدارتی انتخابات جیت کر چوتھی مدت کے لیے صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے پہلے مرحلے میں شکست کے بعد دوسرے مرحلے میں قدامت پسند سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دی۔ تاہم بولسونارو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں قانونی طور پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری نتائج کے مطابق لولا نے 51.8 فیصد جبکہ بولسونارو نے 48.2 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کا فرق رہا۔
یہ 1989 میں برازیل میں براہِ راست صدارتی انتخابات کی بحالی کے بعد پہلا موقع ہے کہ پہلے مرحلے میں شکست کھانے والا امیدوار دوسرے مرحلے میں کامیاب ہوا ہے۔
منگل کو 81 برس کے ہونے والے لولا اب 2030 تک صدر رہیں گے۔ ان کے سیاسی سفر میں یہ ایک اور اہم مرحلہ ہے، جس کا آغاز 2002 میں ان کی پہلی صدارتی کامیابی سے ہوا تھا۔
ان کی دوبارہ کامیابی لاطینی امریکا میں حالیہ سیاسی رجحانات سے بھی مختلف ہے، جہاں ارجنٹائن، چلی، کولمبیا اور پیرو سمیت کئی ممالک میں قدامت پسند جماعتوں اور امیدواروں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
ووٹنگ کے وقت میں توسیع پر بولسونارو کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار
انتخابی تنازع کی بنیادی وجہ برازیل کی سپریم کورٹ کا ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کا فیصلہ ہے، جو بعض پولنگ اسٹیشنز بند ہونے کے بعد کیا گیا۔
یہ فیصلہ لولا کی انتخابی مہم کی جانب سے شکایات کے بعد سامنے آیا، جن میں کہا گیا تھا کہ مختلف شہروں میں بس سروس معطل کیے جانے کے باعث بعض ووٹرز پولنگ اسٹیشنز تک نہیں پہنچ سکے۔
دوسری جانب بولسونارو نے بھی شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم انہوں نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔
برازیلیا میں ایک بیان کے دوران بولسونارو نے کہا کہ انتخابی نتائج تسلیم کرنا ممکن نہیں اور وہ انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کریں گے۔
45 سالہ سینیٹر سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کے صدارتی انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کے الزام میں 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
حالیہ قانونی چیلنج نے برازیل میں انتخابی نتائج کی قبولیت سے متعلق ایک اور تنازع پیدا کر دیا ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد بھی یہ معاملہ ملکی سیاست میں اہم رہا تھا۔
تاہم دستیاب انتخابی نتائج سے فوری طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ بولسونارو کا مجوزہ قانونی چیلنج سرکاری نتائج تبدیل کر سکے گا۔
ووٹرز کی زیادہ شرکت نے دوسرے مرحلے کا نتیجہ بدل دیا
پہلے مرحلے میں شکست کے بعد لولا کی انتخابی مہم نے ووٹرز کی شرکت بڑھانے پر توجہ دی۔
ان کی ورکرز پارٹی نے عوامی اجتماعات منعقد کیے، سوشل میڈیا پر انتخابی سرگرمیاں بڑھائیں اور بولسونارو کی سیاسی تحریک کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے خلاف مہم چلائی۔
انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ نہ ڈالنے والے شہریوں کی شرح 21 فیصد تھی، جو دوسرے مرحلے میں کم ہو کر 19 فیصد رہ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ کن مرحلے میں ووٹرز کی شرکت میں اضافہ ہوا۔
نتائج کے اعلان کے بعد لولا نے اپنی کامیابی کا سہرا ووٹرز کی متحرک شرکت کو دیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ووٹ ڈالنے اس لیے نکلے کیونکہ ان کی انتخابی مہم انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ ڈالنا ضروری ہے۔
نتائج سامنے آنے کے بعد ساؤ پاؤلو اور ریو ڈی جنیرو میں لولا کے حامی سڑکوں پر نکل آئے اور ورکرز پارٹی کے پرچم اٹھا کر کامیابی کا جشن منایا۔
انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کردار پر بھی تنازع سامنے آیا۔
لولا کی ٹیم نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا پر الزام عائد کیا کہ اس کے الگورتھم مبینہ طور پر بولسونارو کو فائدہ پہنچا رہے تھے۔
میٹا نے اس الزام کی تردید کی، تاہم تسلیم کیا کہ تکنیکی خرابیوں کے باعث لولا کی انتخابی مہم کے بعض اشتہارات غلطی سے غیر فعال ہو گئے تھے۔
کامیابی کے بعد لولا نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ضابطہ کاری ان کی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ رہے گی۔
معاشی مسائل اور سیاسی تقسیم
برازیل میں صدارتی انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب مہنگائی، روزمرہ اخراجات، عوامی تحفظ اور معاشی صورتحال ووٹرز کے اہم مسائل میں شامل تھے۔
لولا کے تیسرے دورِ حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی، جبکہ غذائی تحفظ کی صورتحال میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔
تاہم گھریلو اخراجات اور جرائم سے متعلق خدشات ووٹرز کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے رہے۔ ان مسائل نے بولسونارو کو اپنے روایتی قدامت پسند حامیوں کے علاوہ دیگر ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
بولسونارو نے خود کو اپنے والد کے مقابلے میں نسبتاً اعتدال پسند امیدوار کے طور پر پیش کیا اور حکومت میں تبدیلی کے خواہش مند ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔
لولا کی کامیابی کے باوجود انتخابی نتائج نے برازیل کے ووٹرز میں موجود سیاسی تقسیم کو نمایاں کیا، کیونکہ ووٹ ڈالنے والے تقریباً نصف شہریوں نے ان کے حریف کی حمایت کی۔
صدر لولا کو ایسی کانگریس کا بھی سامنا ہوگا جہاں دائیں بازو کی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہے۔ اس صورتحال میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے انہیں سیاسی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
لولا کی سیاست میں واپسی اور چوتھی صدارتی مدت
لولا نے برازیل کی مزدور یونین تحریک سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور بعد میں ورکرز پارٹی کے اہم رہنما بن کر سامنے آئے۔
وہ پہلی بار 2003 میں صدر بنے اور 2010 تک مسلسل دو مدتوں کے لیے اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں 2022 کے انتخابات میں جائر بولسونارو کو شکست دے کر دوبارہ اقتدار میں آئے۔
ان کا سیاسی سفر بدعنوانی کے مقدمات کے باعث متاثر ہوا اور انہیں 18 ماہ سے زائد عرصہ قید میں گزارنا پڑا۔
تاہم عدالتوں نے بعد میں قانونی طریقہ کار سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں، جس کے بعد انہیں دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی۔
حالیہ کامیابی کے بعد لولا کی قومی قیادت میں موجودگی مزید طویل ہو جائے گی، تاہم ان کی چوتھی مدت کا آغاز معاشی پالیسی، عوامی تحفظ اور صدر و کانگریس کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق اختلافات کے دوران ہوگا۔
2030 میں اپنی نئی صدارتی مدت مکمل ہونے پر لولا کی عمر 85 برس ہوگی۔
امریکا سے تعلقات اور علاقائی سیاست
برازیل کے انتخابی نتائج امریکا اور دیگر لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کے کئی قدامت پسند رہنماؤں کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، جبکہ لولا تجارت اور سفارتی معاملات میں برازیل کی خودمختاری پر زور دیتے رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران لولا نے واشنگٹن کے تجارتی اور سفارتی دباؤ پر تنقید کی اور قومی خودمختاری کو اپنے سیاسی پیغام کا اہم حصہ بنایا۔
اتوار کو کامیابی کے بعد انہوں نے کہا کہ برازیل کسی دوسرے ملک کے زیرِ اثر رہنے کو قبول نہیں کرے گا۔
لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باعث برازیل کی خارجہ پالیسی علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
چلی کے صدر خوسے انتونیو کاست اور ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے بھی لولا کو کامیابی پر مبارک باد دی۔ دونوں رہنماؤں کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
لولا اب اپنی نئی صدارتی مدت کا آغاز ایسے حالات میں کریں گے جب ملک میں سیاسی تقسیم برقرار ہے، کانگریس میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے اور ان کے شکست خوردہ حریف نے انتخابی نتائج کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اگرچہ سرکاری نتائج لولا کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں، تاہم بولسونارو کی جانب سے شکست تسلیم نہ کرنے کے باعث انتخابی تنازع تاحال حل طلب ہے۔




