پشاور: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کا انتظام چلانے میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کردی ہے۔
کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
کونسل کا پہلا اجلاس گورنر ہاؤس میں فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں ہوا۔ انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے ارکان کو صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال پر بریفنگ دی۔
گورنر نے نئی انتظامیہ کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ذمہ دارانہ اور بروقت فیصلوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی، استحکام اور ترقی انتظامیہ کی ترجیحات ہوں گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط بنانے کو بھی ترجیح قرار دیا۔
گورنر نے دہشت گردی کو سہارا دینے والے مالی معاونت، سہولت کاری، بھرتیوں اور انتہاپسندی کے نیٹ ورکس ختم کرنے پر زور دیا۔ غیر قانونی اسلحے، منشیات اور غیر قانونی نقل و حرکت کے خلاف اقدامات بھی زیرِ بحث آئے۔
انہوں نے نیشنل ایکشن پلان اور دیگر انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت بیان کی اور کہا کہ صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری ملازمین اور عام شہریوں نے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
بعدازاں سکیورٹی اجلاس میں کونسل کے ارکان، اعلیٰ انتظامی حکام، پولیس، انسدادِ دہشت گردی کے افسران اور انٹیلی جنس نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملی صلاحیت بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
گورنر نے کہا کہ وہ اور مشاورتی کونسل پولیس اور سکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے دستیاب رہیں گے۔
کونسل 11 اکتوبر کے صدارتی اعلامیے کے تحت صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد قائم کی گئی ہے اور صوبائی انتظام میں گورنر کی مدد کرے گی۔





