پاکستان کرکٹ ٹیم کی جرسی کا رنگ تبدیل کرنے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ’پنکٹوبر‘ مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور اس مرض کی جلد تشخیص، باقاعدہ اسکریننگ اور بروقت علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
پی سی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس اقدام کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھر میں اسٹیڈیم میں موجود شائقین اور ٹیلی ویژن پر میچ دیکھنے والے ناظرین تک صحت سے متعلق آگاہی کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
گلابی جرسی، ربن اور اسٹیڈیم کی سجاوٹ
پاکستانی کھلاڑیوں کی گلابی جرسیوں کے علاوہ انگلینڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور کمنٹیٹرز نے بھی چھاتی کے سرطان سے متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گلابی ربن لگائے۔
پی سی بی نے قذافی اسٹیڈیم میں گلابی اسٹمپس استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے لیے خصوصی تشہیری مواد بھی آویزاں کیا۔ میچ سے قبل سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی آگاہی مہم چلائی گئی۔
یہ مہم 25 اکتوبر کو جاری سہ فریقی سیریز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے میچ کے موقع پر منعقد کی گئی۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر کمرشل علی عدنان زیدی نے کہا کہ کرکٹ کے ذریعے لاکھوں افراد تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس موقع کو چھاتی کے سرطان سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید نے بھی پاکستان میں کرکٹ کی مقبولیت اور اس کے اثر و رسوخ کے ساتھ وابستہ سماجی ذمہ داریوں کی اہمیت پر زور دیا۔
چھاتی کے سرطان سے آگاہی کیوں ضروری ہے؟
دنیا بھر میں اکتوبر کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دوران مختلف مہمات کے ذریعے بیماری کی علامات پہچاننے، اسکریننگ کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے اور جسم میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونے پر طبی مشورہ لینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں خواتین میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والے سرطان کی اقسام میں شامل ہے۔
اس مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص سے علاج کے زیادہ مواقع میسر آ سکتے ہیں اور بہتر نتائج حاصل ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اسکریننگ سے متعلق طبی سفارشات کا انحصار مریض کی عمر، طبی تاریخ اور انفرادی خطرات پر ہوتا ہے۔
عوامی آگاہی کی مہمات کا مقصد بیماری سے متعلق معلومات کی کمی دور کرنا اور ایسے مسائل پر گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جن کی بروقت نشاندہی نہ ہونے کی صورت میں تشخیص تاخیر سے ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ میچ کے دوران اس مہم کے انعقاد سے پی سی بی نے چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کا پیغام ان افراد تک بھی پہنچانے کی کوشش کی جو عام طور پر صحت سے متعلق آگاہی پروگراموں کا حصہ نہیں ہوتے۔
دنیا بھر میں کرکٹ کے ذریعے آگاہی مہمات
پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایسی ہی مہمات کا تسلسل ہے۔
جنوبی افریقہ میں جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں ’پنک ڈے‘ ون ڈے میچز منعقد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں میزبان ٹیم چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کے لیے گلابی یونیفارم پہنتی ہے۔
پاکستان بھی ماضی میں ان میچز کا حصہ رہا ہے۔ 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پنک ڈے ون ڈے میچ میں فخر زمان نے 193 رنز کی اننگز کھیلی تھی، تاہم پاکستان کو 17 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
دونوں ٹیمیں 2024 میں ایک مرتبہ پھر پنک ڈے ون ڈے میچ میں آمنے سامنے آئیں، جس میں پاکستان نے 36 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
پاکستان نے گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے دوران بھی چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے لیے ایک خصوصی میچ کا انعقاد کیا تھا۔
آسٹریلیا میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر ہر سال ’پنک ٹیسٹ‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس کا مقصد میک گرا فاؤنڈیشن کی معاونت کرنا ہے۔
یہ فاؤنڈیشن سرطان کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے کام کرتی ہے اور اسے آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر گلین میک گرا اور ان کی اہلیہ جین میک گرا نے قائم کیا تھا۔
ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ممالک کے کرکٹ ادارے کھلاڑیوں کی یونیفارم، اسٹیڈیم کی سجاوٹ اور عوامی پیغامات کے ذریعے بین الاقوامی میچز کو صحت سے متعلق آگاہی کی مہمات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں اتوار کو ہونے والے میچ کے دوران بھی پی سی بی کی توجہ چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی بڑھانے اور بروقت طبی معائنے کی اہمیت اجاگر کرنے پر مرکوز رہی۔





