اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار، 25 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وفاقی حکومت ملک بھر کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے آئندہ دو سالوں میں 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرے گی۔
یہ اعلان اسلام آباد میں وزیراعظم یوتھ کروم بک اسکیم کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا بطور وزیراعظم ان کی ذمہ داری اور ریاست کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل آلات تک رسائی طلبہ کی مالی حیثیت کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور محنت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
وزیراعظم کے مطابق کروم بکس طلبہ میں میرٹ اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی۔
شہباز شریف نے اس منصوبے کا موازنہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومتوں کے دوران شروع کیے گئے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے پروگراموں سے بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اسکیموں کے تحت ایک دہائی میں تقریباً 6 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت نے صرف دو سال میں 5 لاکھ کروم بکس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس ہدف کے مطابق سالانہ اوسطاً ڈھائی لاکھ کروم بکس تقسیم کی جائیں گی، تاہم حکومت نے ابھی تک تقسیم کے مراحل اور اوقات کا تفصیلی شیڈول جاری نہیں کیا۔
اعلان میں طلبہ کی اہلیت، درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار، تعلیمی اداروں کے لیے مختص تعداد اور منصوبے کے مجموعی بجٹ سے متعلق تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی پر توجہ
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان آلات کی مدد سے طلبہ گھر بیٹھے تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے اور روایتی کلاس رومز سے ہٹ کر بھی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی پاکستانی طلبہ کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق علم اور مہارتیں حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
کروم بکس ایسے لیپ ٹاپ ہیں جو بنیادی طور پر گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کروم او ایس پر کام کرتے ہیں۔ انہیں عموماً آن لائن تعلیم، اسائنمنٹس کی تیاری اور تعلیمی ایپلی کیشنز کے استعمال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تعلیمی مقاصد کے لیے ان آلات کا مؤثر استعمال عام طور پر انٹرنیٹ کی دستیابی، موزوں آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اور ضروری تکنیکی معاونت پر منحصر ہوتا ہے۔
پاکستان میں گھریلو آمدنی، انٹرنیٹ کی سہولت اور کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی دستیابی میں فرق طلبہ کے لیے ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
کروم بک اسکیم کا مقصد طلبہ کو ذاتی کمپیوٹنگ آلات فراہم کرکے ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی میں موجود اس فرق کو کسی حد تک کم کرنا ہے۔
تاہم اس منصوبے سے کتنے اور کن طبقات کے طلبہ مستفید ہوں گے، اس کا انحصار مستحق طلبہ کے انتخاب کے طریقہ کار اور صوبوں، تعلیمی اداروں اور مختلف آمدنی والے طبقات میں آلات کی تقسیم پر ہوگا۔
طلبہ کے لیے ٹیکنالوجی پروگراموں کا تسلسل
یہ اعلان وفاقی حکومت کے ان سابقہ اقدامات کا تسلسل ہے جن کے تحت طلبہ، خصوصاً اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔
وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت ماضی میں شریک تعلیمی اداروں کے اہل طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے تھے۔
نئی کروم بک اسکیم کے لیے الگ ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس پروگرام میں بھی اہلیت کے وہی معیار اختیار کیے جائیں گے یا اسکولوں کے طلبہ کو بھی شامل کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غربت کی وجہ سے طلبہ کو تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کے حصول میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مالی مشکلات نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔
توقع ہے کہ حکومت آئندہ اس منصوبے پر عمل درآمد، رجسٹریشن کے طریقہ کار، کروم بکس کی تقسیم کے شیڈول اور اہل طلبہ کی کیٹیگریز سے متعلق مزید تفصیلات جاری کرے گی۔





