خوست: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص مبینہ طور پر افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کے دوران اپنا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ظاہر کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات افغانستان کے صوبہ خوست میں ہوئی۔
ویڈیو میں مذکورہ شخص اپنا تعارف ذبیح اللہ کے نام سے کراتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان کے گاؤں کوٹکئی سے ہے۔ وہ خود کو ٹی ٹی پی کے حکیم اللہ محسود اور قاری حسین سے وابستہ دھڑوں کا رکن بھی قرار دیتا ہے۔
ویڈیو میں اس شخص کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’’میرا نام ذبیح اللہ ہے، میرا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹکئی سے ہے اور میں ٹی ٹی پی کے حکیم اللہ محسود اور قاری حسین گروہوں سے وابستہ ہوں۔‘‘
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی اور آیا مذکورہ شخص کی تنظیمی وابستگی کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوئی ہے یا نہیں۔
اگر ویڈیو کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے والا شخص افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی موجودگی میں ہونے والی ملاقات تک کیسے پہنچا۔
تاہم صرف اس ویڈیو کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سراج الدین حقانی پہلے سے اس شخص کی شناخت یا تنظیمی وابستگی سے آگاہ تھے، یا طالبان حکام نے اسے تحفظ یا کسی قسم کی عملی معاونت فراہم کی تھی۔
یہ مبینہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان سرزمین پر پاکستانی عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
اسلام آباد متعدد مرتبہ الزام عائد کر چکا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جہاں سے وہ پاکستان میں سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔
دوسری جانب کابل ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔
24 اکتوبر کو پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک مرتبہ پھر ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
وزارت کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
وزارت نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی سے متعلق بین الاقوامی سلامتی کی جائزہ رپورٹس کا بھی حوالہ دیا تھا۔
اس سے ایک روز قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اپنے داخلی سلامتی کے مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد کر رہا ہے۔
تازہ ویڈیو میں دکھائے گئے مقام اور افراد کی آزادانہ تصدیق ہونے کی صورت میں یہ ایک ایسی مثال سامنے آئے گی جس میں خود کو ٹی ٹی پی کا رکن قرار دینے والا شخص افغان طالبان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی موجودگی میں ہونے والی ملاقات میں شریک دکھائی دیتا ہے۔
یہ معاملہ کابل کی ان یقین دہانیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے جن میں افغان حکام مسلسل کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف عسکریت پسند تنظیموں کو سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
تاہم ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مذکورہ شخص افغانستان میں کہاں کہاں موجود رہا، اس کی سرگرمیوں کی نوعیت کیا تھی یا اسے کسی سرکاری سطح پر معاونت حاصل تھی یا نہیں۔
سرحدی کشیدگی میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اہم تنازع
تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے، تاہم دونوں کے درمیان نظریاتی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ٹی ٹی پی کئی برسوں سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور دیگر اہداف پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔
اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سرحد پار عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
اس تنازع کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، پاکستانی فوجی کارروائیاں اور متعدد سفارتی رابطے اور بیانات سامنے آ چکے ہیں۔
پاکستان نے امریکی حکومت کی جنوری سے مارچ 2026 کی مدت سے متعلق ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار کے درمیان بتائی گئی تھی اور افغانستان سے اس تنظیم کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔
خوست میں ہونے والی مبینہ ملاقات میں ذبیح اللہ کی موجودگی نے اس تنازع میں ایک اور پہلو کا اضافہ کیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس نے خود کو ٹی ٹی پی کی تاریخ کی دو اہم شخصیات سے وابستہ دھڑوں کا رکن بتایا ہے۔
حکیم اللہ محسود ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ تھے، جبکہ قاری حسین تنظیم کے ایک اہم کمانڈر رہے ہیں۔ دونوں شخصیات ٹی ٹی پی کی مسلح سرگرمیوں کے ابتدائی دور سے وابستہ تھیں۔
تاہم مذکورہ شخص کی جانب سے ان دھڑوں سے تعلق ظاہر کرنا تنظیم میں اس کی موجودہ حیثیت یا ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ افغان حکام نے اس ویڈیو یا اس میں نظر آنے والے شخص کی شناخت کے حوالے سے کوئی مؤقف جاری کیا ہے یا نہیں۔
اس معاملے میں بنیادی سوالات یہ ہیں کہ آیا ویڈیو مستند ہے، کیا مذکورہ شخص اس وقت ٹی ٹی پی کا فعال رکن ہے اور کن حالات میں اسے خوست میں ہونے والی مبینہ ملاقات تک رسائی حاصل ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان کے لیے یہ سوالات سرحد پار عسکریت پسندی، اپنی اپنی سرزمین پر سکیورٹی کی ذمہ داری اور مشترکہ سرحد پر امن و امان سے متعلق جاری اختلافات سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔





