پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اتوار کو پشاور کی اہم سڑکیں کنٹینرز سے بند رہیں، بی آر ٹی اسٹیشن نہ کھلے اور مواصلاتی خدمات متاثر ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈان کی شہر سے جاری رپورٹ کے مطابق سرکاری عمارتوں اور اہم چوراہوں کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، جبکہ شہریوں کو مختلف مقامات پر راستے بدلنے پڑے۔
فردوس چوک پر جی ٹی روڈ بند تھی اور صرف پیدل چلنے والوں کو گزرنے دیا جارہا تھا۔ صوبائی اسمبلی کے قریب خیبر روڈ کی جانب جانے والا راستہ بھی کنٹینرز اور بند سکیورٹی گیٹ کے باعث مسدود تھا۔
سنٹرل جیل اور ایم پی اے ہاسٹل کے اطراف بھی نقل و حرکت محدود رہی۔ پولیس نے پیدل چلنے والوں کو شوبا بازار کی طرف جانے کی ہدایت کی، جبکہ شیر شاہ سوری روڈ کو خیبر بازار سے ملانے والا جیل پل بھی بند تھا۔
گورنر اور وزیراعلیٰ کی رہائش گاہوں کے قریب صاحبزادہ عبدالقیوم روڈ پر سخت چیکنگ کی جارہی تھی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب ایک بکتر بند گاڑی، قیدیوں کی وین اور انسدادِ ہنگامہ آرائی پولیس کی گاڑی جاتے دیکھی گئی۔
آرمی اسٹیڈیم کے قریب خیبر روڈ پر مزید رکاوٹیں موجود تھیں۔ ڈان کے رپورٹر نے بتایا کہ موبائل سروس نہ ہونے کے باعث حکام سے رابطہ کرنا اور علاقے سے گزرنا مشکل ہوگیا تھا۔
بی آر ٹی اسٹیشن بھی بند رہے۔ چند روز پہلے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کے دوران شہر تقریباً 48 گھنٹے کی موبائل سروس بندش کا سامنا کرچکا تھا۔
اسٹیڈیم چوک پر کنٹینرز کے باعث دونوں جانب گاڑیاں ایک ایک قطار میں گزر رہی تھیں۔ ارباب روڈ بھی بند تھی، جبکہ صدر بازار جزوی طور پر کھلا اور امن چوک کے قریب ٹریفک کم تھی۔
دوپہر کو انٹرنیٹ بھی بند ہوگیا، جس سے رابطے مزید متاثر ہوئے۔ سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے ساتھ مواصلاتی تعطل نے شہریوں کے لیے معمول کے سفر کو بھی دشوار بنادیا۔





