واشنگٹن: امریکی فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کی نئی ہدایت نے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کے تحت خلاف ورزی کی تشریح محدود کردی ہے، جس سے حادثاتی طور پر جانوروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کے کئی واقعات قانونی کارروائی سے باہر ہوسکتے ہیں۔
14 ستمبر کو فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کے ڈائریکٹر برائن نیسوک کی جانب سے جاری یادداشت میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت کسی جانور کو غیر قانونی طور پر “take” کرنے کے لیے ایسا مثبت اقدام ضروری ہے جو جان بوجھ کر کسی مخصوص جانور کو نشانہ بنائے اور اس پر براہ راست اور فوری اثر ڈالے۔
اس تشریح کے تحت درختوں کی کٹائی، کان کنی، تعمیرات، جہاز رانی اور پانی کے رخ میں تبدیلی جیسی سرگرمیوں سے محفوظ جنگلی حیات کو حادثاتی طور پر نقصان پہنچنے کے بعض واقعات قانون کی خلاف ورزی نہیں سمجھے جاسکتے، چاہے اس نقصان کا پہلے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہو۔
یادداشت میں مثال دی گئی ہے کہ اگر کسی درخت میں خطرے سے دوچار چمگادڑ موجود ہوں اور درخت کاٹ دیا جائے تو اسے غیر قانونی “take” نہیں سمجھا جائے گا، جب تک درخت چمگادڑوں کو مارنے یا پکڑنے کے مقصد سے نہ کاٹا گیا ہو۔ اسی طرح کسی وہیل سے جہاز کے حادثاتی ٹکرانے کو بھی لازماً غیر قانونی “take” نہیں سمجھا جائے گا اگر جہاز کو اس جانور کی جانب نہیں موڑا گیا تھا۔
تنازع قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاح “take” کے مفہوم پر ہے۔ امریکی قانون میں اس میں خطرے سے دوچار جنگلی حیات کو ہراساں کرنا، نقصان پہنچانا، شکار کرنا، زخمی کرنا، مارنا، پکڑنا یا جمع کرنا شامل ہے۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی تشریح قانون کے اصل مقصد کے مطابق ہے اور جولائی میں کی گئی ایک تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہے جس میں “harm” کی سابقہ وفاقی تشریح ختم کردی گئی تھی۔ حکام کے مطابق جان بوجھ کر شکار، فائرنگ، زخمی کرنے یا جان سے مارنے جیسی کارروائیاں اب بھی قانون کے تحت ممنوع ہیں۔
ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئی تشریح سے وفاقی اداروں کی جانب سے کارروائی کا دائرہ محدود ہوسکتا ہے اور ایسی سرگرمیوں کے لیے تحفظ کی ترغیب کم ہوسکتی ہے جن سے جنگلی حیات کو متوقع طور پر نقصان پہنچتا ہے۔ سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے مطابق اس کے اثرات جنگلات کی کٹائی، کان کنی اور تعمیراتی سرگرمیوں سمیت کئی شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس معاملے میں امریکی سپریم کورٹ کا 1995 کا ایک اہم فیصلہ بھی موجود ہے۔ Babbitt v. Sweet Home مقدمے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ محفوظ جنگلی حیات کے مسکن میں ایسی نمایاں تبدیلی بھی “harm” کے دائرے میں آسکتی ہے جو جانوروں کو حقیقتاً ہلاک یا زخمی کردے۔





