تہران: ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مسائل حل کرنے اور اس پر عمل درآمد بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ثالثی جاری ہے۔
ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زین وند نے کہا کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد معاہدے کی طرف واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کا بیان ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا جسے الجزیرہ نے بھی نقل کیا۔
زین وند نے کہا کہ ایران توقع کرتا ہے کہ “دوسرا فریق” معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران کے نظام کا ایک باضابطہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منظور کیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس کی توثیق کی۔
انہوں نے ایران کی جاری سفارتی سرگرمیوں اور مشاورت کا بھی حوالہ دیا، جن میں صدر مسعود پزشکیان کی بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت بھی شامل ہے۔
ایران کے تازہ بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی نیا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ بلکہ یہ تہران کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ زیر بحث مفاہمتی یادداشت کو باقی مسائل حل ہونے کی صورت میں دوبارہ سفارتی عمل کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی سے ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں طے پائی تھی۔ اس کا مقصد فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور مزید مذاکرات کی جانب پیش رفت کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور اختلافات کے حل سے متعلق بات چیت کے طریقہ کار پر بھی پیش رفت ہوئی۔
تاہم معاہدے پر عمل درآمد کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے جولائی میں کہا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں مشکلات موجود ہیں، تاہم اسلام آباد نے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ معاہدے کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
پاکستان اس سفارتی فریم ورک کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ 15 ستمبر کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے بھی اتفاق کیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم راستہ ہے۔





