سکری: دنیا کی بلیوں کے بارے میں سائنس دانوں کے علم میں ایک بڑا اضافہ ہوا ہے، جب بولیویا کے جنگلات میں ایک نئی جنگلی بلی کی باقاعدہ شناخت کی گئی۔
اس ننھی اور دھبے دار بلی کو Leopardus tilcayo کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق یہ ایک صدی سے زیادہ عرصے میں سائنس کے لیے شناخت کی جانے والی پہلی نئی زندہ بلی کی نسل ہے۔ اس سے قبل 1923 میں پامپاس کیٹ کو نئی نسل کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔
یہ بلی بولیویا کے یونگاس جنگلات میں پائی جاتی ہے، جو اینڈیز پہاڑی سلسلے کی مشرقی ڈھلوانوں پر واقع ایک گھنا اور نسبتاً دشوار گزار خطہ ہے۔ یہ تقریباً 46 سینٹی میٹر لمبی اور صرف 1.4 کلوگرام وزنی ہے، یعنی ایک عام گھریلو بلی سے بھی چھوٹی۔
اس دریافت کی کہانی بھی غیر معمولی ہے۔
2016 میں ایک مقامی شخص نے جنگل کے قریب ایک ننھی بلی کا بچہ پایا اور اسے گھریلو بلی سمجھ کر اپنے گھر لے گیا۔ تقریباً ایک سال بعد اسے اندازہ ہوا کہ یہ جانور جنگلی ہے، جس کے بعد اسے ایک جانوروں کی پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا۔
بولیوین ماہر حیاتیات اور نیشنل جیوگرافک ایکسپلورر پاؤلا نوگالیس اسکارنز نے جب اس بلی کو دیکھا تو انہیں شبہ ہوا کہ یہ عام ٹائیگر کیٹ سے مختلف ہے۔ اس کے جسم پر دھبوں کے بڑے حلقے اور بعض جسمانی خصوصیات معلوم انواع سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔
حتمی جواب جینیاتی تحقیق سے ملا۔
محققین نے Leopardus نسل کی 38 بلیوں کے مکمل جینوم کا موازنہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ جانور دوسری ٹائیگر کیٹس سے جینیاتی طور پر مختلف ہے اور اس کا ارتقائی سلسلہ تقریباً 14 لاکھ سال پہلے الگ ہو چکا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دریافت نے صرف ایک نئی نسل کا اضافہ نہیں کیا بلکہ ٹائیگر کیٹس کے بارے میں موجود سائنسی سمجھ بھی تبدیل کر دی۔ تحقیق کے مطابق جن جانوروں کو پہلے ایک ہی نوع سمجھا جاتا تھا، وہ اب پانچ الگ انواع پر مشتمل گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
تاہم اس نئی بلی کے بارے میں ابھی بہت کچھ معلوم نہیں۔ سائنس دان اس کی خوراک، افزائش نسل، جنگل میں تعداد اور مکمل جغرافیائی پھیلاؤ کے بارے میں محدود معلومات رکھتے ہیں۔





