نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے گروپ سے فوری طور پر فوجی کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ بیان میں حالیہ حملوں کے دوران شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
سلامتی کونسل نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ “فوری طور پر اپنی فوجی کشیدگی ختم کریں” اور شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملے روکیں۔
کونسل نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کی بھی دوبارہ مذمت کی اور جہازوں اور ان کے عملے کے تحفظ اور آزادانہ بحری آمد و رفت کی اہمیت پر زور دیا۔
سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے دفاع کے حق کی بھی توثیق کی۔ تاہم کونسل نے یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے عزم کو بھی دہرایا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی صورتحال تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ یمن کا تنازع ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جبکہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں نئی پیش رفت نے شہریوں اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
پاکستان نے بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ سعودی عرب پر حملوں اور یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر ہونے والی حالیہ فوجی پیش رفت نے تنازع کو انتہائی خطرناک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ باب المندب میں تجارتی جہاز رانی میں خلل کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور عالمی تجارتی جہاز رانی کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ اس لیے یہاں دوبارہ حملوں سے بحری سلامتی، توانائی کی ترسیل اور خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کا تازہ مؤقف فوجی کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھاتا ہے جبکہ یمن کی علاقائی سالمیت اور عالمی بحری آمد و رفت کے تحفظ کی حمایت بھی برقرار رکھتا ہے۔





