اسلام آباد: پاکستان میں خصوصی فیول ریلیف اسکیم میں توسیع کردی گئی ہے جس کے تحت پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے صارفین بھی نظر ثانی شدہ شرائط کے تحت رعایتی پٹرول حاصل کرسکیں گے۔
نئی تبدیلیوں کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے ایسے افراد جنہیں پانچ لیٹر سے کم پٹرول درکار ہو، اب ایک ٹوکن کے ذریعے ہفتہ وار 500 روپے کی رعایت حاصل کرسکیں گے۔ پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی کم از کم شرط ختم کردی گئی ہے، جس سے کم مقدار میں پٹرول خریدنے والے افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ہر ہفتے ایک ٹوکن جاری ہوگا اور ایک ماہ میں چار ٹوکن دیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق 500 روپے کی پوری رعایت صارف کو دی جائے گی اور پٹرول پمپ اس رقم میں سے کوئی سروس چارج منہا نہیں کرسکیں گے۔
حکومت نے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے اہلیت بھی بڑھا دی ہے۔ اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی رکشے اسکیم میں رجسٹریشن کے اہل ہوں گے۔ اس طرح 20 سال تک پرانی گاڑیوں کے مالکان اور صارفین بھی فیول ریلیف حاصل کرسکیں گے۔
800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ کار برقرار رہے گا۔ ان کے صارفین کو ہر 10 دن میں 10 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی رعایت ملے گی۔ اس حساب سے ایک ماہ میں 30 لیٹر تک پٹرول پر مجموعی طور پر 3,000 روپے کی رعایت حاصل کی جاسکتی ہے۔
یہ تبدیلیاں اسکیم کے ملک گیر آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران شہریوں سے موصول ہونے والی آراء کے بعد کی گئی ہیں۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بھی فیول سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کو ادائیگیوں کی صورتحال سے متعلق دن میں دو مرتبہ رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ایسے علاقوں میں پٹرول پمپس کے لیے متبادل انتظامات پر بھی زور دیا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں، جن میں خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بعض علاقے شامل ہیں۔
خصوصی فیول ریلیف اسکیم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث متعارف کرائی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں پر روزمرہ سفر اور روزگار کے لیے انحصار کرنے والے شہریوں پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔
حالیہ تبدیلیوں سے اسکیم کا دائرہ بڑھانے کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ دی گئی ہے کہ کم مقدار میں پٹرول خریدنے والے اور پرانی گاڑیاں استعمال کرنے والے افراد بھی اس سہولت تک رسائی حاصل کرسکیں۔





