زہرہ 18 ستمبر کو 2026 میں اپنی شام کی نمود کے دوران اپنی بلند ترین چمک پر پہنچا اور غروب آفتاب کے بعد مغربی آسمان میں ایک انتہائی روشن نقطے کی طرح دکھائی دیا۔
زہرہ عام طور پر سورج اور چاند کے بعد آسمان میں نظر آنے والا تیسرا سب سے روشن قدرتی جرم ہے، تاہم اس کی چمک زمین سے اس کے فاصلے اور اس کے نظر آنے والے روشن حصے کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔
اس منظر کی خاص بات یہ ہے کہ زہرہ اس وقت سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے جب وہ مکمل دائرے کے بجائے ہلال کی شکل میں نظر آتا ہے۔
زہرہ سورج کے گرد زمین سے زیادہ اندرونی مدار میں گردش کرتا ہے، اس لیے زمین سے دیکھنے پر اس کی شکل بھی چاند کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ جب زہرہ زمین کے قریب آتا ہے تو اس کا نظر آنے والا روشن حصہ کم ہونے لگتا ہے، لیکن اس کا ظاہری حجم بڑا ہوتا جاتا ہے۔
18 ستمبر کو یہ دونوں عوامل ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں زمین سے زہرہ کا سب سے زیادہ روشن حصہ نظر آ رہا تھا۔ ماہرین فلکیات اسے زہرہ کی عظیم ترین روشن وسعت یا greatest illuminated extent کہتے ہیں۔
دوربین سے دیکھا جائے تو زہرہ مکمل دائرے کے بجائے ایک بڑے ہلال کی شکل میں نظر آتا ہے۔ EarthSky کے مطابق اس موقع پر اس کی چمک تقریباً منفی 4.8 میگنی ٹیوڈ تک پہنچ گئی، جو آسمان کے کسی بھی ستارے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔
زہرہ کی غیر معمولی چمک میں اس کے گھنے بادل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو سورج کی روشنی کا بڑا حصہ واپس منعکس کرتے ہیں۔ زہرہ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہے اور اس کے بادل انتہائی عکاس ہیں۔
اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں تھی۔ غروب آفتاب کے فوراً بعد مغربی افق کی جانب دیکھنے سے زہرہ ایک نہایت روشن نقطے کی صورت میں نظر آ سکتا تھا۔ ناسا کے مطابق چونکہ زہرہ افق کے قریب تھا، اس لیے کھلے مغربی افق سے اسے دیکھنے کا امکان زیادہ تھا۔
یہ منظر زیادہ عرصے تک شام کے آسمان میں موجود نہیں رہے گا۔ زہرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ افق کے مزید قریب ہوتا جائے گا اور بعد میں شام کے آسمان سے غائب ہو کر سال کے آخر میں صبح کے آسمان میں دوبارہ نمایاں ہوگا۔





