جکارتہ: انڈونیشیا کے مغربی کلیمانتان میں مقامی آبادی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے جنگلات کی آگ سے نمٹنے میں حکومت کے کردار پر صدر پروبوو سوبیانتو اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق مقدمہ مغربی کلیمانتان کے شہر پونتیانک کی عدالت میں درج کیا گیا ہے اور پہلی سماعت 7 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ مقدمہ دائر کرنے والوں میں مقامی آبادی کے اتحاد کی مغربی کلیمانتان شاخ، کیتھولک یوتھ کی مقامی شاخ، پرکومپولان لامان پونیوگ انڈونیشیا اور ایک شہری شامل ہیں۔
مقدمہ دائر کرنے والے گروپوں کے وکیل گلوریو سانین نے کہا کہ یہ کارروائی علاقے میں ہر سال دوبارہ لگنے والی جنگلات اور زمین کی آگ کو روکنے اور اس سے نمٹنے میں حکومت کی مبینہ غفلت کے خلاف عوامی تشویش کے باعث کی گئی ہے۔
صدر کے دفتر نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا گزشتہ 11 برس کی شدید ترین جنگلاتی آگ کا سامنا کر رہا ہے۔ بورنیو اور سماٹرا کے کئی علاقوں میں آگ پھیل چکی ہے جبکہ شدید خشک موسم کو طاقتور ال نینو موسمی کیفیت نے مزید بڑھایا ہے۔ حکام کے مطابق بارشوں کا موسم دیر سے آنے کے باعث آگ اکتوبر یا نومبر تک جاری رہ سکتی ہے۔
جنگلات کی آگ نے صحت اور علاقائی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یکم سے 9 ستمبر کے دوران آگ سے متاثرہ سات صوبوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز بڑھ کر 113,336 ہوگئے، جو یکم ستمبر کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ تھے۔ دھوئیں اور دھند نے پڑوسی ممالک ملائیشیا اور سنگاپور میں بھی فضائی معیار کو متاثر کیا ہے۔
انڈونیشیا نے آگ پر قابو پانے کے لیے 50 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جو پانی برسانے اور مصنوعی بارش کی کارروائیوں میں استعمال ہورہے ہیں۔ جاپان نے بھی طیارے فراہم کیے ہیں جبکہ ملائیشیا نے مزید امداد کی پیشکش کی ہے۔
جنگلات کی آگ سے متعلق یہ انڈونیشیا میں پہلا قانونی چیلنج نہیں۔ 2016 میں شہریوں نے اس وقت کے صدر جوکو ویدودو، کابینہ کے وزرا اور مقامی حکام کے خلاف 2015 کی جنگلاتی آگ سے نمٹنے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ ضلعی عدالت میں کامیابی کے بعد یہ فیصلہ 2022 میں سپریم کورٹ نے تبدیل کردیا تھا۔





