برن: تقریباً 400 سال سے غیر جانبداری کی پالیسی رکھنے والے سوئٹزرلینڈ نے بدلتے عالمی سکیورٹی ماحول کے پیش نظر اپنی دفاعی اور حفاظتی حکمت عملی مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوئس وفاقی کونسل نے 18 ستمبر کو 2026 کی سکیورٹی پالیسی حکمت عملی منظور کی، جس میں ریاست، معیشت اور معاشرے کو نئے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 10 اہداف اور 46 اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبداری اس کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ رہی ہے۔ سوئس حکومت کے مطابق یہ غیر جانبداری تقریباً چار صدیوں سے برقرار ہے اور 1815 میں کانگریس آف ویانا کے بعد اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ سوئٹزرلینڈ اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے دیگر ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون بھی کر سکتا ہے۔
نئی حکمت عملی میں روس اور یوکرین کی جنگ، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی، سائبر حملوں، جاسوسی، تخریبی کارروائیوں اور معلوماتی اثراندازی کو بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق اہم بنیادی ڈھانچے کا باہمی طور پر جڑا ہونا انہیں مختلف حملوں کے لیے زیادہ حساس بنا سکتا ہے۔ حکمت عملی میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سمیت طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے ممکنہ حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم سوئس حکام کے مطابق مستقبل قریب میں سوئٹزرلینڈ پر براہ راست مسلح حملے کا امکان کم ہے۔
نئی پالیسی کی تین بنیادی ترجیحات ہیں۔ پہلی ریاست، معیشت اور معاشرے کی مزاحمت کی صلاحیت بڑھانا، دوسری شہریوں اور اہم تنصیبات کو خطرات سے بہتر تحفظ دینا اور تیسری مسلح حملے کی صورت میں ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنا ہے۔
سوئس حکومت کا کہنا ہے کہ دفاعی صلاحیت بڑھانے کا مطلب غیر جانبداری ترک کرنا نہیں بلکہ موجودہ خطرات کے مطابق قومی دفاع کو تیار کرنا ہے۔ حکمت عملی میں ضرورت پڑنے پر دیگر ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سوئس شہری 27 ستمبر کو ایک مجوزہ آئینی ترمیم پر ووٹ دیں گے جس کا مقصد غیر جانبداری کی مزید سخت تشریح کو آئین میں شامل کرنا ہے۔ مجوزہ اقدام فوجی تعاون اور پابندیوں سے متعلق بھی مزید سخت شرائط چاہتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی نئی حکمت عملی یہ دکھاتی ہے کہ یورپ میں بدلتا سکیورٹی ماحول ان ممالک کی دفاعی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کر رہا ہے جو طویل عرصے سے فوجی تنازعات سے دور رہنے کے لیے معروف رہے ہیں۔ برن کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط کرتے ہوئے اپنی تاریخی غیر جانبداری کو برقرار رکھا جائے۔





