واشنگٹن: امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے آرکٹک خطے میں سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے، تاہم یہ پیش رفت گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مطالبے سے کہیں مختلف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 ستمبر کو اعلان کیا کہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈے اور فضائی گزرگاہوں کے حقوق حاصل ہوں گے، جبکہ امریکی حریفوں کو وہاں فوجی اڈے قائم کرنے یا حساس سرمایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا۔
تاہم ڈنمارک کی حکومت نے کہا ہے کہ تینوں فریق آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر معاہدے پر باضابطہ دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ دستخط کے بعد معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے متعلقہ پارلیمانی کارروائی بھی ضروری ہوگی۔ کوپن ہیگن کے مطابق معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط کرے گا، جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرے گا۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی خود مختار اکائی ہے اور شمالی امریکا اور یورپ کے درمیان انتہائی اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ امریکا کو 1951 کے ایک معاہدے کے تحت پہلے ہی گرین لینڈ میں وسیع فوجی رسائی اور فضائی و فوجی اڈے استعمال کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔
نئے انتظام کے تحت امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی گنجائش پیدا ہوگی جبکہ نیٹو سے باہر کے ممالک کے لیے فوجی اڈے قائم کرنے اور بعض حساس سرمایہ کاری پر پابندیاں ہوں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ غیر نیٹو ممالک گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم نہیں کرسکیں گے جبکہ حساس سرمایہ کاری کے لیے امریکی منظوری درکار ہوگی۔
تاہم گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی کتنی بڑھے گی، اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ نئے امریکی فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے یا نہیں۔ اس وقت گرین لینڈ کے شمال مغرب میں امریکی اسپیس فورس کا پٹفک اسپیس بیس موجود ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے مطالبات کے باعث واشنگٹن، کوپن ہیگن اور نوک کے درمیان کئی ماہ تک کشیدگی رہی۔ گرین لینڈ کی قیادت نے اس دوران جزیرے کے مفادات اور مستقبل کے بارے میں اس کے عوام کے حق کو اہم قرار دیا ہے۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا کہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور عالمی تعاون میں اس کے مقام کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ اس میں ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔





