پی این ایس حنین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو محض بحری تصادم سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان کے لیے اصل سوال کہیں بڑا ہے: سمندر میں بھارت کی پیش قدمی کس حد تک جاری رہ سکتی ہے، اس سے پہلے کہ ایک بحری مڈبھیڑ کشیدگی میں بدل جائے؟
15 ستمبر کو بحیرہ عرب میںب ھارتی بحری جہازکا پاکستان نیوی کے جہاز سے تصادم ہوا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان نیوی اپنی بحری مشق سی اسپارک 26 کر رہی تھی۔ پاکستان کے مطابق بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکاتا، نے پاکستانی جہاز کے قریب انتہائی خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی۔ اسلام آباد نے بعد ازاں بھارتی ناظم الامور کو طلب کیا اور اس واقعے کو انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیا۔
اس واقعے کا وقت اور مقام دونوں اہم ہیں۔
پاکستان ایک ایسی بڑی بحری مشق کر رہا تھا جس کا مقصد مختلف نوعیت کے بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری اور صلاحیت کو جانچنا تھا۔ پاکستان کے مطابق بھارتی جہاز 15 ستمبر کے واقعے سے پہلے بھی متعدد مرتبہ مشق کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر چکا تھا۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھارتی جہاز نے اچانک خطرناک انداز میں اپنا رخ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں پی این ایس حنین سے تصادم ہوا۔
بھارت نے اس واقعے کی مختلف تصویر پیش کی ہے۔ نئی دہلی کے مطابق اس کا جہاز بین الاقوامی پانیوں میں نگرانی کی کارروائی کر رہا تھا اور پی این ایس حنین تیز رفتاری سے اس کے قریب آیا۔ تاہم جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق مکمل ٹریکنگ ڈیٹا، برج ریکارڈنگ یا کوئی آزادانہ تحقیقات عوام کے سامنے نہ ہونے کے باعث تصادم سے پہلے پیش آنے والے واقعات کی مکمل ترتیب ابھی متنازع ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کا قانونی مؤقف غیر اہم ہو جاتا ہے۔
خصوصی اقتصادی زون، یا ای ای زیڈ، علاقائی پانیوں کے مترادف نہیں ہوتا۔ سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت دیگر ریاستوں کو ای ای زیڈ میں جہاز رانی کی آزادی حاصل رہتی ہے۔ تاہم یہ آزادی غیر مشروط نہیں۔ آرٹیکل 56 ساحلی ریاست کے مخصوص خودمختار حقوق اور دائرۂ اختیار کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 58 دیگر ریاستوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ای ای زیڈ میں اپنے حقوق استعمال کرتے ہوئے ساحلی ریاست کے حقوق اور ذمہ داریوں کا مناسب لحاظ رکھیں۔
لہٰذا پاکستان کے لیے معاملہ محض یہ نہیں کہ بھارتی بحری جہاز پاکستان کے ای ای زیڈ میں موجود تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے بار بار قریب آنے اور خطرناک انداز میں نقل و حرکت کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو کیا بھارتی جہاز کا طرز عمل ساحلی ریاست کے تسلیم شدہ حقوق اور سلامتی کے مفادات کا مناسب لحاظ رکھتا تھا؟





