ہوانا: کیوبا کا قومی بجلی کا نظام جمعہ کو دوبارہ مکمل طور پر بیٹھ گیا، جس کے باعث لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے اور ملک کا توانائی بحران مزید گہرا ہوگیا۔
کیوبا کے حکام کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً دو بجے وسطی کیوبا میں ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنز میں خرابی کے بعد بجلی کا نظام بیٹھ گیا۔ حکام نے بتایاکہ بجلی کی بحالی کا عمل بتدریج جاری ہے اور جمعہ کی شام ہوانا کے بعض علاقوں، خصوصاً اسپتالوں کے قریب، بجلی بحال کردی گئی تھی۔
یہ جنوری کے بعد کیوبا میں بجلی کے نظام کے مکمل یا جزوی طور پر بیٹھنے کا کم از کم چھٹا واقعہ ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش 30 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
کیوبا کا بجلی کا نظام کئی برس سے پرانے انفراسٹرکچر اور ایندھن کی قلت کے باعث دباؤ میں ہے۔ جنوری سے امریکا کی جانب سے تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ان پابندیوں اور دیگر مشکلات نے بجلی کی بندش کو زیادہ بار اور زیادہ طویل ہونے میں کردار ادا کیا ہے۔
تازہ بجلی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے رواں ہفتے کیوبا کے 11 اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے کہا کہ ان اقدامات سے ملک میں قلت اور معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں، جبکہ امریکا اپنی پالیسی کو ہوانا پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے۔
طویل بجلی کی بندش صرف روشنی کا مسئلہ نہیں۔ اس سے پانی کی فراہمی، خوراک کو محفوظ رکھنے، مواصلات، ٹرانسپورٹ، اسپتالوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
کیوبا میں بار بار بجلی کا نظام بیٹھنا اس لیے اہم ہے کہ تازہ واقعے کا فوری سبب ٹرانسمیشن لائن میں خرابی تھا، لیکن بار بار ہونے والے بریک ڈاؤن ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ایندھن کی فراہمی میں موجود وسیع مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔





