سیول : جنوبی کوریا نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیول نے کہا ہے کہ شہریوں، شہری تنصیبات اور آزاد و محفوظ بحری آمد و رفت کو متاثر کرنے والے اقدامات کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
جنوبی کوریا کا یہ بیان یمن اور اس کے گرد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں حوثی فورسز نے سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حوثیوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سعودی بحری جہازوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس صورتحال نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور نہر سوئز کے درمیان اہم بحری راستے کی سلامتی کے بارے میں تشویش پیدا کردی ہے۔
جنوبی کوریا کی تشویش بین الاقوامی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد سیول اہم بحری راستوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
دیگر ممالک نے بھی حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔ جاپان نے حوثیوں سے مزید کشیدگی سے گریز کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کیے جاسکتے۔ ٹوکیو نے باب المندب میں آزاد اور محفوظ بین الاقوامی بحری آمد و رفت برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں وسیع تر تنازعات کے باعث پہلے ہی بحری تجارت دباؤ کا شکار ہے۔ طویل رکاوٹ سے شپنگ، انشورنس اور توانائی کی لاگت بڑھنے کے ساتھ عالمی سپلائی چینز پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کا مطالبہ اس بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن کا تنازع اب صرف ملک کی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ شہریوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دنیا کے اہم ترین بحری راستوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔





