تہران: ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق آسٹریا نے ایران کے ایٹمی چیف محمد اسلامی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث وہ ویانا میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکے۔
آئی آر آئی بی کے مطابق، ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کانفرنس میں شرکت کے لیے ہفتے کے روز ایک وفد کے ہمراہ ویانا جانا تھا، تاہم ویزا نہ ملنے پر وفد بعد میں تہران واپس لوٹ گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ویزا دینے سے انکار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے اس فیصلے پر باضابطہ طور پر احتجاج درج کرایا ہے۔
اسماعیل بقائی نے ویزے سے انکار کو ”بالکل بلاجواز“ قرار دیا اور بتایا کہ ایران نے اس معاملے پر آسٹریا کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا ہے۔
آئی آر آئی بی کے مطابق جاری بیان میں ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی دباؤ کی وجہ سے میزبان ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے باز نہیں رہنا چاہیے۔
محمد اسلامی کی کانفرنس میں شرکت سے ایران کے اعلیٰ ترین ایٹمی عہدیدار ویانا پہنچتے، جہاں اقوام متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کا صدر دفتر قائم ہے۔ تاہم آسٹریا کی جانب سے ویزا جاری نہ کرنے کے فیصلے کے باعث وہ شریک نہ ہو سکے۔
آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا کہ ایرانی وفد کانفرنس کے لیے ویانا روانہ ہوا تھا، لیکن ویزا کے مسئلے کے باعث محمد اسلامی کی عدم شرکت کی وجہ سے وفد تہران واپس آ گیا۔
ایران نے بعد ازاں اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا، اور ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ آسٹریا کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ نے طلب کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق تہران کو توقع ہے کہ میزبان ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، اور انہوں نے ایسے فیصلوں پر بیرونی دباؤ کے اثر انداز ہونے پر اعتراض اٹھایا۔
ویزا نہ ملنے کی وجہ سے محمد اسلامی ویانا میں آئی اے ای اے کانفرنس میں شرکت سے محروم رہے، جبکہ ایران نے سفارتی ذرائع سے اس فیصلے پر باضابطہ طور پر احتجاج درج کرایا ہے۔





