زمین سے تقریباً 40 نوری سال دور ایک ایسا سیاروی نظام موجود ہے جہاں سات زمین جسامت کے سیارے ایک ہی سرخ بونے ستارے کے گرد گردش کر رہے ہیں۔
ان میں ٹریپسٹ 1 ایف اپنے ستارے کے قابل رہائش خطے کے بیرونی حصے میں واقع ہے۔ ٹریپسٹ 1 ای اور ٹریپسٹ 1 جی بھی اسی خطے میں ہیں، جہاں حالات مناسب ہونے کی صورت میں سیارے کی سطح پر مائع پانی موجود ہو سکتا ہے۔
لیکن ٹریپسٹ 1 ایف کو زمین کے مقابلے میں ستارے سے صرف تقریباً 37 فیصد روشنی ملتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مناسب فضائی ماحول کے بغیر اس کی سطح بہت زیادہ سرد ہو سکتی ہے۔ آیا وہاں مائع پانی برقرار رہ سکتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ سیارے کے پاس ماحول موجود ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کی ساخت کیا ہے۔
اب تک اس ماحول کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس نظام کی شناخت اور اس کے ساتوں سیاروں کی خصوصیات کا ابتدائی تعین ناسا کی اسپٹزر خلائی دوربین اور زمینی دوربینوں کی مدد سے کیا گیا تھا۔ بعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تمام سیارے زمین کے قریب جسامت رکھتے ہیں اور غالباً چٹانی ہیں۔
اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس نظام کو مزید قریب سے دیکھ رہا ہے۔ اگست 2026 میں سائنس دانوں نے ٹریپسٹ 1 ایف کے بارے میں ویب کی پہلی ٹرانزٹ اسپیکٹرا رپورٹ کی، جس کے لیے سیارے کو پانچ مرتبہ ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ابتدائی نتائج سے ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل غالب ماحول کے بعض امکانات کو خارج کیا گیا ہے، لیکن یہ ثابت نہیں ہوا کہ سیارے کے پاس کوئی بھاری ماحول موجود ہے یا نہیں۔
تحقیق میں ایک اور مشکل خود اس سرخ بونے ستارے کی سرگرمی ہے۔ ٹریپسٹ 1 پر طاقتور شعلے اور دیگر سرگرمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، جو سیارے کے ماحول سے آنے والے انتہائی مدھم سگنلز کو الگ کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔ ناسا کے مطابق ٹریپسٹ 1 ایف سمیت بیرونی سیاروں کے ویب مشاہدات کا تجزیہ ابھی جاری ہے اور مزید مشاہدات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ابھی ٹریپسٹ 1 ایف کو دوسری زمین کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم یہ ایک اہم قدرتی تجربہ گاہ ضرور ہے، جہاں سائنس دان جانچ سکتے ہیں کہ ایک چٹانی سیارہ ایک چھوٹے اور سرگرم ستارے کے گرد کس طرح کا ماحول برقرار رکھ سکتا ہے۔
اور اصل سوال اب بھی باقی ہے: کیا اتنی کم روشنی حاصل کرنے والی دنیا اپنے پانی کو مائع رکھ سکتی ہے؟





