امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون یورپ سے تقریباً 25 ہزار یا اس سے زائد امریکی فوجیوں کی واپسی پر غور کر رہا ہے، جس سے براعظم میں امریکی فوجی موجودگی میں تقریباً ایک تہائی کمی ہو سکتی ہے۔
این بی سی نیوز کے مطابق یورپ میں اس وقت تقریباً 80 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جبکہ زیر غور منصوبے کے تحت یہ تعداد 40 ہزار تک کم کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
جرمنی، اٹلی اور اسپین ان ممالک میں شامل ہیں جہاں بڑی تعداد میں امریکی فوجی تعینات ہیں اور ممکنہ کمی سے یہ ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا چھ ماہ سے جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی یورپی کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکویچ جمعہ کو وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ابتدائی جائزہ پیش کرنے والے ہیں۔
جائزے میں فضائی، بحری اور زمینی افواج سے متعلق مختلف آپشنز شامل ہیں، جبکہ بعض امریکی فوجیوں کو نیٹو کے مشرقی محاذ کی جانب منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کو 6 نومبر کو حتمی سفارشات موصول ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد کوئی بھی تجویز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف رہا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنے روایتی دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے، جبکہ امریکا اپنی اضافی فوجی وسائل دیگر خطوں پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔
ممکنہ فوجی کمی پر بعض امریکی قانون سازوں اور یورپی حکومتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیزی سے امریکی فوج واپس بلانے سے روس کے خلاف نیٹو کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
این بی سی کے مطابق جائزے کے معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے درمیان بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جون میں پینٹاگون کی جانب سے نیٹو وزرائے دفاع کو بڑی فوجی کمی سے متعلق بریفنگ دینے کی تیاری کے بعد مداخلت کی تھی۔
امریکی سینیٹرز نے بھی روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ خارجہ اور امریکی سفارت کاروں کو یورپ میں امریکی فوجی پوزیشن کے جائزے میں مکمل طور پر شامل رکھا جائے۔





