نیویارک: امریکہ نے مسلسل دوسرے سال فلسطینی حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ذاتی طور پر شرکت سے روک دیا ہے۔ واشنگٹن نے اس فیصلے کی وجہ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات اور ان سرگرمیوں سے متعلق اپنے تحفظات کو قرار دیا ہے جنہیں وہ امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ ویزا پابندیوں کا دائرہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور فلسطینی اتھارٹی کے حکام تک بڑھا دیا گیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس بھی ان حکام میں شامل ہیں جنہیں آئندہ ہفتے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیا۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام فلسطین اور امریکہ کے تعلقات میں اعتماد بحال کرنے اور دو ریاستی حل کے لیے ضروری سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔
امریکہ نے فیصلے کی مختلف وضاحت پیش کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے امریکہ سے کیے گئے اصلاحات کے وعدے پورے نہیں کیے اور اس کی بعض سرگرمیاں واشنگٹن کے مطابق امن کے امکانات کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس فیصلے کے نتیجے میں فلسطینی حکام ایک بار پھر نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی حکام کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔
یہ معاملہ اقوام متحدہ میں فلسطینی قیادت کی شرکت کے ایک اہم عملی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، لیکن نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے فلسطینی حکام کو امریکہ میں داخلے کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
حالیہ فیصلہ صرف امریکہ اور فلسطین کے تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اہم ترین سالانہ سفارتی اجلاس میں فلسطینی حکام کی شرکت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
فلسطینی فریق کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے لیے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ پابندیاں فلسطینی حکمرانی اور امن سے متعلق اس کے تحفظات کی بنیاد پر عائد کی گئی ہیں۔





