ڈبلن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے روسی ڈیزل تنصیبات کو نشانہ بنانا روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت متاثر ہورہی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو آئرلینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے زیلنسکی سے اس معاملے پر بات کی ہے اور یوکرین کو روسی ایندھن کے بجائے دوسرے اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی کو روس میں ڈیزل ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بند کرنا ہوگا اور یہ حملے “دنیا کو نقصان پہنچا رہے ہیں”۔
یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کی آئل ریفائنریوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملے تیز کیے ہیں۔ ان حملوں سے روس میں ایندھن کی پیداوار متاثر ہوئی اور ملک کے بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔
کیف کا مؤقف ہے کہ روسی ریفائنریاں جائز فوجی اہداف ہیں کیونکہ روس بھی یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی ڈیزل مارکیٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت 10 ستمبر کو پہلی بار چھ ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔
ڈیزل ٹرکوں، ٹرینوں، بحری جہازوں اور زرعی مشینری سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی سپلائی میں رکاوٹ نقل و حمل، زراعت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق روس نے رواں سال اپنی تیل پیداوار کا تخمینہ کم کرکے 17 سال کی کم ترین سطح تک کردیا ہے اور 2026 اور 2027 کے لیے ایندھن کی برآمدات کے اندازوں میں بھی نظرثانی کی ہے۔
ٹرمپ نے عالمی ایندھن کی قلت کو روس اور یوکرین کی جنگ سے بھی جوڑا اور کہا کہ یہ مسئلہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا۔
ٹرمپ کے بیان نے روسی توانائی تنصیبات پر یوکرینی حملوں کے حوالے سے ایک وسیع تر سوال سامنے رکھ دیا ہے، جہاں روس کی جنگی صلاحیت کو متاثر کرنے کی کوششیں اب عالمی ایندھن کی فراہمی کے خدشات سے بھی جڑ رہی ہیں۔





