ڈبلن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران سے نکلنے کے بجائے وہاں رہنے اور اس کا تیل رکھنے کا فیصلہ بھی کرسکتا ہے۔
آئرلینڈ کے دورے کے دوران اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بالآخر ایران سے نکل جائے گا، تاہم واشنگٹن وہاں رہنے اور تیل حاصل کرنے کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے۔ انہوں نے اس امکان کا موازنہ اگست میں وینزویلا کے حوالے سے اعلان کیے گئے امریکی توانائی معاہدے سے کیا۔
ٹرمپ نے کہا، “ہم بالآخر ایران سے نکل جائیں گے، جب تک ہم وینزویلا کی طرح وہاں رہنے اور تیل رکھنے کا فیصلہ نہ کریں۔”
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران میں امریکی موجودگی یا ایرانی تیل رکھنے سے ان کی مراد کیا ہے۔ اس لیے ان کے بیان کو موجودہ امریکی پالیسی کے اعلان کے بجائے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کی توانائی منڈیوں اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں جبکہ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں خلل پڑنے سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو متبادل راستے استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب بھی توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ رواں سال ختم ہوجائے گی، تاہم یہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا میں پٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہوجائیں گی۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان عمان میں ہونے والی ایک ملاقات بھی شرائط پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ملتوی کردی گئی۔
ٹرمپ کے تازہ بیان نے ایران جنگ کے ممکنہ اختتام کے ساتھ ایک اور اہم سوال پیدا کردیا ہے: کیا امریکا فوجی موجودگی ختم کرنے کے باوجود ایران کے تیل میں اپنا معاشی مفاد برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا؟ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ امکان کسی حتمی معاہدے کا حصہ بنے گا یا نہیں۔





