واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر موجود امریکی پابندیوں کے قانونی فریم ورک کو مزید پانچ سال کے لیے بڑھانے کے قانون پر دستخط کردیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے جمعہ کو لنڈسے او گراہم روس اور ایران پابندیوں کے قانون 2026 پر دستخط کیے۔ قانون میں روس کے خلاف نئی پابندیاں اور روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر ممکنہ محصولات سے متعلق اختیارات بھی شامل ہیں۔
ایران سے متعلق قانون 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ کی مدت میں توسیع کرتا ہے۔ یہ قانون پہلے دسمبر 2026 کے آخر میں ختم ہونا تھا، تاہم اب اس کی مدت 31 دسمبر 2031 تک کردی گئی ہے۔ قانون بنیادی طور پر موجودہ قانونی پابندیوں کے فریم ورک کو برقرار رکھتا ہے اور ایرانی اداروں کے خلاف نئی انفرادی پابندیوں کی فہرست خود جاری نہیں کرتا۔
امریکی سینیٹ نے اگست میں یہ قانون 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور کیا تھا، جبکہ ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظوری دی۔ اس کے بعد قانون صدر کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔
قانون کا بڑا حصہ روس پر مرکوز ہے۔ اس کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل یا گیس خریدنے والے بعض ممالک پر محصولات عائد کرنے کا اختیار ملتا ہے، جبکہ روسی حکام، مالیاتی اداروں اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے آئل ٹینکرز کے نیٹ ورک کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
ایران کے لیے اس قانون کی اہمیت یہ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے طویل عرصے سے موجود پابندیوں کا قانونی فریم ورک اب 2031 تک برقرار رہے گا۔





