ماسکو: افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ مشاورت کا آٹھواں اجلاس پیر کو روسی دارالحکومت میں شروع ہو گیا، جس میں افغانستان اور خطے کے ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔
اجلاس میں افغانستان کی صورتحال اور علاقائی تشویش کے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستانی وفد میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے، سفیر محمد صادق اور کابل میں پاکستان کے سفیر شامل ہیں۔
ماسکو فارمیٹ ایک سفارتی فورم ہے جس کے ذریعے علاقائی حکومتیں افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت اور اپنے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس میں افغانستان کے ساتھ روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک شریک ہیں۔
افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے یہ بات چیت سلامتی، سرحد پار آمدورفت اور اقتصادی روابط کے حوالے سے اہم ہے۔ عدم استحکام تجارتی راستوں اور سرحدی آبادیوں کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ سکیورٹی پالیسی پر اختلافات حکومتوں کے تعلقات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
اجلاس اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے۔ پاکستان افغان سرزمین سے سرگرم مسلح گروہوں پر اپنے ہاں حملوں کے الزامات لگاتا رہا ہے، جبکہ افغان حکام پاکستانی الزامات سے اختلاف کرتے ہیں۔
اجلاس سے قبل محمد صادق نے ایرانی وزارت خارجہ کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل محمد رضا بہرامی سے بھی ملاقات کی۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق دونوں نمائندوں نے علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔
یہ ملاقات وسیع علاقائی اجلاس کے موقع پر ہونے والے سفارتی رابطوں کا حصہ تھی۔ پاکستان اور ایران دونوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، اس لیے وہاں کی پیش رفت دونوں ممالک کے لیے براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔
اجلاس کا آغاز بات چیت شروع ہونے کی اطلاع ہے۔ مختصر بیان میں کسی مشترکہ اعلامیے، طے شدہ اقدامات یا شرکا کی جانب سے مخصوص وعدوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔





