نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جمعے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق کے احترام پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق گوٹیرس نے سفارتی حل کی فوری ضرورت پر زور دیا اور تنازع کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ ملاقات ایران کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے اور عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے 7 روزہ منصوبے کی تجویز کے بعد سامنے آئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اس سے قبل بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے یہ تجویز واشنگٹن تک پہنچا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات دنوں کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے اس تجویز پر ابھی تک علانیہ طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے آبنائے ہرمز اس تنازع میں بنیادی نکتہ بن چکی ہے۔ لڑائی چھڑنے کے بعد ایران نے اس آبی گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر دیا تھا، جس سے توانائی کی سپلائی کی اہم ترین راہداری متاثر ہوئی ہے۔
موجودہ تنازع کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ تہران کے مطابق ان حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
گوٹیرس اور پزشکیان کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وسیع تر تنازع اور اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم آبی گزرگاہ کی صورت حال کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔





