تہران: ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے پیر کو دعویٰ کیا کہ امریکی افواج ایرانی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلی گئی ہیں، جسے انہوں نے ایران کے فوجی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پاسداران انقلاب کے سربراہ کے مشاورتی گروپ کے سربراہ ریئر ایڈمرل علی فدوی نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر یہ بیان دیا۔
پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج کی ایک شاخ ہے، جس میں زمینی، بحری اور فضائی و خلائی یونٹس شامل ہیں۔
فدوی نے دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور شمالی بحر ہند میں امریکی جنگی جہاز موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ میں ان جہازوں کے مقامات کی آزادانہ تصدیق یا امریکی ردعمل شامل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ’’امریکی ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق یہ امریکی انتخاب کے بجائے ایران کی فوجی صلاحیتوں کا نتیجہ تھا۔
فدوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور ایران کئی ماہ سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والی تنگ سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا اہم راستہ ہے، جہاں پابندیاں جہاز رانی، بیمہ اخراجات اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کرتی ہیں۔
فدوی کے مطابق ایران اور عمان نے مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے قواعد تیار کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض جہازوں کے کپتان بیمہ اور مالی ذمہ داریوں کے باعث جنوبی راستہ استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے اندازہ پیش کیا کہ ایران کے مقرر کردہ راستے سے ہٹ کر متبادل گزرگاہ سے روزانہ تیس سے چالیس لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا ہے۔ یہ ان کا بیان کردہ تخمینہ ہے، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ جہاز رانی کے اعدادوشمار نہیں۔
یہ بیان فوجی دباؤ اور سمندری رسائی کے تنازع کے دوران سامنے آیا ہے۔ تاس کے مطابق واشنگٹن نے حال ہی میں بڑے پیمانے کے حملوں سے پابندیوں کے ذریعے اقتصادی دباؤ کی جانب منتقلی کا اشارہ دیا ہے۔





