راولپنڈی: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اپنے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کراتے ہوئے جسمانی و نفسیاتی تشدد، حبسِ بے جا اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ ویمن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 342 اور 506 کے تحت درج کیا گیا ہے، جن کا تعلق حبسِ بے جا اور مجرمانہ دھمکیوں سے ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق دو کم سن بچوں کی والدہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں گزشتہ کئی ماہ سے مبینہ طور پر جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا سامنا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2 اکتوبر کو صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ان کے شوہر نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، ان کا موبائل فون لے لیا اور انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے، بچوں سے ملنے اور پولیس سے مدد حاصل کرنے سے بھی روکا گیا۔ ملیحہ سحر نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں جان سے مارنے اور بچوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ محض ایک الگ تھلگ گھریلو تنازع نہیں بلکہ مبینہ تشدد، دھمکیوں اور کنٹرول کرنے والے رویے کا مسلسل سلسلہ تھا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بچوں تک ان کی رسائی محدود کرکے اسے دباؤ اور خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اپنی جان اور جسمانی تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں اور انہوں نے فوری تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے قانونی کارروائی کے ساتھ طبی معائنے اور مبینہ زخموں کو بطور ثبوت دستاویزی شکل دینے کی بھی درخواست کی۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا، جسے بعد ازاں راولپنڈی کی مقامی عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں عائد الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید قانونی کارروائی دستیاب شواہد کی بنیاد پر کی جائے گی۔




