عدن: سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی نئی فوجی کارروائی میں شامل ہو گیا ہے اور زمینی افواج کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ’’یمن کی صبح‘‘ نامی کارروائی میں سو جنگی طیاروں نے صبح سویرے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یمنی افواج کو چوبیس گھنٹے فضائی مدد فراہم کی جائے گی۔
یہ اعلان یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے اتوار کو حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی واپسی کے لیے فوجی مہم شروع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
فوجی اور حکومتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سرکاری افواج نے باب المندب کے قریب ذباب ضلع کے بڑے حصوں پر قبضہ حاصل کیا ہے۔ حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس پیش قدمی کی تردید کی ہے۔
باب المندب ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ ایشیا اور بحیرہ روم کے درمیان سفر کرنے والے تجارتی جہاز یہاں سے گزرتے ہیں، اس لیے اس کے ساحلی علاقوں کا کنٹرول اہم ہے۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے اس راستے کو دوبارہ لڑائی کا مرکز بنا دیا ہے۔ یمنی حکومت ان علاقوں کو واپس لے کر اپنا اختیار بحال کرنا چاہتی ہے۔
تعز کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ حوثیوں نے تعز اور عدن کو ملانے والی سڑک پر واقع قصبے تربہ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے شہر تک رسائی اور شہریوں کو ضروری سامان کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یمن میں تنازع حوثیوں کے دو ہزار چودہ میں صنعا پر قبضے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ سعودی عرب نے اگلے سال حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ دو ہزار بائیس کی جنگ بندی سے لڑائی کم ہوئی، تاہم نئی جھڑپوں نے نسبتاً پُرسکون صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے نقل کردہ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایک لاکھ پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد یمن کے اندر بے گھر ہوئے ہیں۔





